ولکن شُبّھہ لھم

by Other Authors

Page 56 of 76

ولکن شُبّھہ لھم — Page 56

کی تشریح ہو سکتی ہے۔۵۶ عارف ربانی حضرت عبد الکریم جیلانی " فرماتے ہیں:۔فا نقطع حكم نبوة التشريع بَعْدَهُ وَكَانَ مُحَمَّد صلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم خاتم النبيين لا نَهُ جَاءَ بِالْكَمَالِ وَلَمْ بَعِي أَحَدٌ بِذَلِكَ - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت تشریعی بند ہو گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین قرار پائے کیونکہ آپ ایک ایسی کامل شریعت نے آئے جو اور کوئی ہی نہ لایا ر الانسان الکامل جلد ام - مطبوعہ دار الكتب العربيه الكبرى - مصر) حضرت شاہ ولی اللہ صاحب فرماتے ہیں۔(م۔201124 ) "خُتِمَ بِهِ اللبِيُّون الى لا يُوجَدُ مَنْ يَأْمُرُهُ اللهُ سُبْحَانَهُ بِالتَّشْرِيْعِ عَلَى النَّاسِ " تقيمات البيه جلد ۲ مطبوعہ مدینہ ہرتی پرلی بجنور۔یوپی بھارت) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اب کوئی ایسا شخص نہیں ہو گا جسے اللہ تعالٰے لوگوں کے لیے شریعت دے کر مامور کرے ۱۳ آپ نے علامہ ابن عمر کے اصابہ کے اس حوالہ کو سب سے مقدم رکھا ہے کہ ایسے نبی کی نفی نہیں ہوتی ہو آپ سے پہلے منصب نبوت پر سرفراز ہو چکا ہو۔حالانکہ ابن حجر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمندند حضرت ابراہیم کی نبوت کے قائل ہیں اور یہ حدیث نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ابراہیم کی تدفین کے وقت فرمایا کہ یہ خود بھی نبی تھا اور نبی کا بیٹا۔پھر ان حجر لکھتے ہیں کہ ابراہیمکو میسی دیجی کی طرح بچپن میں نبوت مل گئی تھی