ولکن شُبّھہ لھم

by Other Authors

Page 41 of 76

ولکن شُبّھہ لھم — Page 41

شک ہے کہ بالعموم آپ کے عقیدہ اور عیسائی عقیدہ میں کوئی فرق نہیں۔ذرا پھر غور کر کے دیکھ لیجئے !! ا - کیا آپ یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ مسیح زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ؟ یہی عقیدہ عیسائیوں کا ہے۔-۲- کیا آپ یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ مسیح ناصری دوبارہ آسمان سے اتریں گے ؟ اور امت محمدیہ کی اصلاح کے لیے اس امت کا کوئی فرد نہیں آئے گا بلکہ آپ عیسائیوں کی طرح اسی مسیح کے جسمانی نزول کے قائل ہیں مین کو عیسائیوں نے خدا کا بیٹا بنا رکھا ہے۔آپ کے عقیدہ اور عیسائیوں کے عقیدہ میں فرق صرف اتنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ مسیح مرکز زندہ ہو پھر آسمان پر چڑھا۔آپ کہتے ہیں مرا ہی نہیں بلکہ زندہ چڑھا لیکن جہانتک اسی میسج کے انفسہم زندہ آسمان پر جانے اور بنفسہ آنے کا تعلق ہے آپ کے اور عیسائیوں کے عقیدہ میں کوئی فرق نہیں۔بحث صرف یہ نہیں کہ آپ میسج کے بنفسہ نہ ندہ آسمان پر جانے کا عقیدہ رکھتے ہیں اور اس کے بنفسہ واپس آنے کا یقین رکھتے ہیں بلکہ اس کے نتیجہ میں عیسائی آپ کو عقلا و نقلاً الوہیت مسیح کے عقیدہ کا قائل کر سکتے ہیں اور برصغیر پاک و ہند میں لاکھوں مسلمان اسی غلط عقید کے باعث عیسائیت کا شکار ہوئے ہیں۔اور ہو رہے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ آپ مند کر کے بیٹھ جائیں اور نہ مانیں مگر جب وہ قرآن کریم کی یہ دلیل پیش کر دیں کہ جب محمد رصلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا گیا کہ جسم سمیت آسمان پر چڑھ کر اور اتر کر دکھاؤ تو ان کو جگر اتعالیٰ نے یہ بتایا کہ مطالبہ کرنے والوں کے سامنے یہ جواب پیش کر دو کہ ھل كُنتُ الأَبَشَرًا رَّسُولاً لے لینی ہیں تمہارے اس قسم کے ناجائز مطالبے پورے نہیں کر سکتا له بنی اسرائیل: ۹۴