ولکن شُبّھہ لھم

by Other Authors

Page 42 of 76

ولکن شُبّھہ لھم — Page 42

بلکہ میں تو محض ایک بشر اور رسول ہوں۔گویا بشر اور رسول کا آسمان پرزندہ چڑھ جا تا در اسی طرح زندہ آسمان سے اتر آنا محال ہے۔پس اگر آپ قرآن کریم کی اس آیت کی سچائی کے بھی قاتل ہیں تو خواہ منہ سے مانیں یا نہ مائیں ، لاز کا یہ عقیدہ بنے گا کہ وہ مسیح ناصری جو زندہ آسمان پر چڑھ گیا اور زندہ اُتر کر دینا میں ظاہر ہوگا وہ نہ بشر ہوگا ، رسول بلکہ اس کا جانا اور واپس آنا اس کا مافوق البشر اور ما فوق الرسول ہونا ثابت کر لے گا۔میں یہی عیسائی عقیدہ ہے اور یہی من وعن ان کی دلیل ہے کہ مسیح عام رسولوں سے مختلف تھا۔بشر نہیں بلکہ خدا کا بیٹا تھا اور رسول نہیں بلکہ خود مظہر الوہیت تھا۔پس اب آپ کے لیے کوئی راہ فرار نہیں رہی۔آپ کا عیسائیت کے ساتھ عقائد میں یہ اشتراک حیات مسیح کے عقیدہ کا لازمی نتیجہ ہے۔جس کی وجہ سے آپ مسلمان کہلا کہ عالم عیسائیت کی مدد کر رہے ہیں۔اس لیے مقدر متھا کہ مسیح موعود کا سر صلیب بن کر آئے اور صلیبی عقائد کو جو مسلمانوں میں رائج ہو چکے ہیں قلع قمع کرے۔چنانچہ کسر صلیب کا یہ کارنامہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود نے خوب انجام دیا۔اس سلسلہ میں ہم مولوی اشرف علی تھانوی صاحب کے ترجمہ قرآن کے دیباچہ میں مولوی نور محمد نقشبندی کا یہ حوالہ پیش کر کے بتاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن اور سنت اور بائیبل اور عقل سے میسیج ناصری کی وفات ثابت کر کے اس دور کے مسلمانوں پر کتنا بڑا احسان کیا ہے کہ ان کو عیسائیت کی خوفناک یلغار سے بچا لیا۔مولوی نور محمد نقشبندی کے بارہ میں آپ کم از کم اتنا تو جانتے ہیں کہ وہ احمدیت کے مداحوں میں سے نہیں تھے اور آپ کے بزرگ مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کے مخلص مریدوں میں سے تھے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں:۔دو اسی زمانہ میں پادری لیفرائے پادریوں کی ایک بہت بڑی جماعت نے کر اور حلف اُٹھا کہ ولایت سے چلا کر تھوڑے عرصہ میں تمام ہندوستان کو عیسائی بنالوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلام