ولکن شُبّھہ لھم — Page 39
حیات مسیح کے عیسائی عقیدہ کو آپ نے اسلامی عقیدہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش بھی کی ہے۔اس بارہ میں پہلے ذرا محققین کی آرا کا مطالعہ فرما لیجیے :- : علامہ زرقانی فرماتے ہیں: زاد المعاد میں جو یہ مذکور ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ۳۳ برس کی عمر میں مرفوع ہوئے کوئی متصل حدیث اس بارہ میں نہیں ملتی۔شامی کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ تصاری سے مروی ہے کیا شرح زرقانی علامہ محمدبن عبد الباقی جز اول من الطبقة الأولى بالمطبعة الازهريه المصريه ۱۳۲۵) یہی بات علامہ قیم نے زاد المعاد میں اور نواب صدیق حسن خان نے تفسیر فتح البیان میں لکھی ہے۔: - سرسید احمد خان تحریر فرماتے ہیں :- قرآن مجید میں حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے متعلق چار جگہ ذکر آیا ہے۔چونکہ علماء اسلام نے یہ تقلید بعض فرق نصاری کے قبل اس کے کہ قرآن پر غور کریں یہ تسلیم کر لیا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السّلام زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں۔اس لیے انہوں نے ان آیتوں کے بعض الفاظ کو اپنی غیر حق تسلیم کے مطابق کرنے کی کوشش کی ہے۔تفسیر احمدی مصنفه مرستید احمد خان منه و مش ۲ حصہ اول جلادت در مطبع مفید عامه ام ۱۳- علامہ عبید اللہ سندھی لکھتے ہیں۔یہ تو حیات عیسی لوگوں میں مشہور ہے یہ سیو دی کہانی نیز صابی من گھڑت کہانی ہے۔مسلمانوں میں فتنہ عثمان کے بعد بواسطہ انصار بنی ھاشم یہ بات پھیلی اور یہ صابی اور یہودی تھے تغیر العام الرحمان مت ۲۳ از عید اللہ سندھی جلد اول - ناشر :- علامہ مولانا محمد معاوید)