ولکن شُبّھہ لھم — Page 37
امام سندھی کے قیام مکہ کے دوران علامہ موسی جار اللہ نے ان کی یہ تفسیر عربی میں فلمیند کی جو علامہ سندھی کی واپسی پر ان کے بھتیجے مولانا عزیز احمد دیگر قلمی ومطبوعہ کتب کے ساتھ بیان لائے امام سندھی کے شاگرد مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی نے اس عربی تفسیر کے دو حصوں کو شائع فرمایا جبکہ امام سندھی کی عربی تغیر کے مسودہ کا ترجمہ ان کے شاگر و مولانا عبدالرزاقی نے کیا اور محمد معاویہ عبید اللہ نے اس کی طباعت کروائی - رویا چه تغیر الهام الرحمان جلد اوران ص ۲ ناشر: علامہ مولانا محمد معاویه - ادارہ بیت الحکمہ الالعام ولی الله العلوی) اس میں شک نہیں کہ مولانا سندھی حضرت شاہ ولی اللہ کے بڑے مداح تھے لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ آپ ان پر مقلد ہونے کا الزام لگائیں۔علامہ عبید اللہ سندھی نے وفات مسیح کے معاملہ میں آزادانہ طور پر اپنے مذہب کا اظہار کیا ہے۔اسی طرح آپ نے اپنی لاعلمی میں مولانا آزاد مرحوم کی طرف وفات مسیح کی نسبت کو غلط قرار دیا ہے امر واقعہ یہ ہے کہ اس بارہ میں بھی آپ کی تحقیق ادھوری رہ گئی۔ملفوظات آزاد نا پر درج ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کو ڈاکٹر انعام الشت خان آف بلوچستان نے لکھا کہ مرزائی لوگ آپ کی طرف مختلف معاملات منسوب کرتے رہتے ہیں۔کہتے ہیں کہ مولانا و فانت میسج کے قائل ہیں۔براہ کرم ایسی فیصلہ کن کتاب لکھ دیں کہ بولنے کی جرات نہ رہے اور اس میں یہ بھی درج فرمائیں کہ اس کے ذریعے تمام پرانی تحریر میں منسور میں اور پرانے خیالات بھی۔اس کے جواب میں مولانا ابوالکلام آزاد نے بڑا واضح اور صاف جواب دیا کہ وفات مسیح کا جو ذکر خود قرآن میں ہے۔اس پر میں نہیں مولانا آزاد نے اپنی تصنیف نقش آزاد امیں حیات مسیح کے عقیدہ کو غیر اسلامی قرار دیا۔اس سے بھی مزید دو میں سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ بغیر علم اور بغیر تحقیق کے بات کرنے کے عادی ہیں تاکہ سادہ بندگان خدا کو دھوکا دیں۔یا پھر اراده ان