ولکن شُبّھہ لھم — Page 30
کے کہ آپ کی حالت پر رحم کیا جائے اور کیا کیا جا سکتا ہے۔آپ نے حضرت داتا گنج بخش نے کا یہ قول نقل کر دنیا کانی سمجھاکہ صحیح احادیث میں وارد ہے کہ مسیح کو آسمان پر اُٹھا لیا گیا مگر اس کی تحقیق نہ فرمائی کیا آپ ایسی کوئی ایک حدیث بھی پیش کر سکتے ہیں جو رفع جسمانی پر دلیل بن سکتی ہو۔اب بھی آپ کو چیلنج ہے کہ اگر ایسی کوئی حدیث ہے تو لابیٹے اور بہنیں نہزار روپے کے حضرت مرزا صاحب کے انعامی پیلینج سے فائدہ اٹھائیے۔پھر اگر حضرت داتا گنج بخش نے ایک طرف واقعہ معراج میں صحیح بخاری کی حدیث کی رو سے ارواح سے ملاقات کو تسلیم کیا ہے تو اس کے مقابل آسمان پر جانے کی کسی ضعیف روایت کو قبول کرنا کسی طرح قرین قیاس ہے۔ایک طرف حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کا یہ اعلان کہ مسیح کی روح بھی ارواج انبیاء میں شامل تھی ، اپنے ساتھ صحیح بخاری کی حدیث کی صورت میں ایک قطعی تائیدی گواہ رکھتا ہے اس لیے اس دعوے کو من وعن قبول کیئے بغیر چارہ نہیں۔دوسری طرف جب ان کے اس دعوے پر نظر کرتے ہیں کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ مسیح کو آسمان پر اٹھایا گیا ہے تو تلاش بسیار کے با وجود ایک بھی صحیح حدیث اس دعوے کے ثبوت میں نہیں ملتی۔میں یہ دوسری شکل ان معنوں میں تو ہرگز قابل قبول نہیں کہ احادیث صحیحہ میں حضرت میں کے جسم سمیت آسمان پر اٹھا جانے کا ذکر ملتا ہو۔ہاں اگر حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ نے اٹھانے سے مراد رفع درجات لیا ہے تو پھر اس معنے میں آپ کے اس ارشاد کو قبول کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں