ولکن شُبّھہ لھم — Page 29
۲۹ دلائل کی ضرورت ہوا کرتی ہے نہ کہ محض دعاوی کی۔اور پھر دعاوی بھی ایسے جنہیں عقل انسانی بالبداہت رو کرتی ہو۔قرآن شریعت واقعہ معراج کے بارہ میں فرماتا ہے مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَاراى ٥ (انیم:۱۲) کہ دل نے جو نظارہ دیکھا وہ جھوٹ نہ تھا۔یعنی واقعہ معراج میں رویت قلبی تھی نہ کہ رویت عینی که بقول آپ کے تجبتم ارواح " لازم آئے۔آپ کی یہ دلیل نہایت احمقانہ ہونے کے باوجود اگر تسلیم بھی کر لی جائے تب بھی آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ابن حزم نے جب یہ لکھا کہ تمام انبیاء علیہم السلام کی رو میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی گئیں تو یہ بات قطعی ہوگئی کہ ان میں ایک بھی روح ایسی نہ تھی جو زمین سے اپنا بدن ساتھ لے کر گئی ہو۔ورنہ اس روح کے متعلق یہ کہنا لازم تھا کہ سوائے فلاں نبی کے سجو دنیادی بدن سمیت وہاں موجود تھا۔پس سیخ کی روح کا دیگر انبیاء کے ساتھ بحیثیت روح کے شامل ہونا قطعی طور پر ثابت ہو گا۔اس لا تعلق بحث سے آپ کو کیا فائدہ ہو گا کہ خدا نے ان روحوں کو دکھانے کے لیے بدن عطا کیا تھا یا نہیں ؟ ان روحوں کے زمین پر چھوڑے ہوئے نہ خاک ایران کو آسمان پر لے جانے کا کوئی ذکر نہیں ملتا اور غالباً آپ بھی پنی بے باکی کے باوجود یہ نظریہ پیش کرنے کی مہارت نہیں کریں گے۔انبیاء کی روحوں سے نبی کریم کی ملاقات کا تذکرہ صرف ابن حزم نے ہی نہیں کیا بلکہ علامہ ابن قیم اور داتا گنج بخش نے بھی کیا ہے۔پھر بھی آپ ان ارواح کو اجسام مثالیہ سے تعبیر پر کرنے پر مصر ہیں۔اجسام مثالیہ کے بارہ میں ہم بات کھول چکے ہیں کہ یہ وہ سم نہیں تھے جو زمین پر چھوڑے گئے تھے۔پھر آپ کو اس دلیل سے کوئی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے تو سوائے اس