ولکن شُبّھہ لھم — Page 17
16 ۱۸- استاذ عبد الوہاب النجار وفات مسیح کے قائل ہیں۔اپنی تصنیف قصص الانبیاء میں حضرت مسیح ناصری علیہ السّلام کے انجام کے بارہ میں تحریر فرماتے ہیں :- وَالَّذِي اخْتَارُه أَنَّ عَسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ قَدْ أَنجَاهُ اللهُ مِنَ اليَهُودِ فلم يقبِطُوا عَلَيْهِ وَلَمْ يُقْتَلُ وَلَمْ يُصْلَبُ وَانَّ الْوَجْهُ الثَّانِي وَهُوَ انَّ الْمُرَاد مِنَ الآيَةِ الى مُسْتَوبِ اَجَلكَ وَ مُميتك حمد الفك لا أسلم عَلَيْكَ مَنْ يَقْتُلُكَ وَاَنَّ الآية كناية عَنْ عِصْمَتِهِ مِنَ الأعْداءِ هُوَ الْوَجْهُ الْوَجيه الذى يجب ان يُصَار اليه قصص الانبیا ء م ۴۳۳ تالیف عبد الوہاب شجار الطبعة الثالثة دار احیاء التراث العربي شارع صوبہ یا۔بیروت) حضرت مسیح ناصری علیہ اسلام کے بارہ میں مختلف آراء کا ذکر کر کے فرماتے ہیں کہ وہ موقف جو میں اختیار کرتا ہوں یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہود سے نجات دی اور وہ آپ پر قدرت نہ پاسکے اور آپ کو قتل نہ کر سکے نہ ہی ملیب دے سکے نیز ید کہ مذکورہ معانی میں سے تونی کے یہ دوسرے معنی ہی دراصل مراد ہیں کہ میں تیری مدت عمر کو پورا کرنے والا ہوں اور تجھے طبعی موت دینے والا ہوں اور تجھ پر ہر گز اپنے لوگوں کو مسلط نہیں کروں گا جو تجھے قتل کر دیں۔اوریہ کہ آیت متوفيك مسیح کو ان کے دشمنوں سے بچانے کے لیے کنا یہ ہے۔یہی در اصل وہ مضبوط معنی ہیں جو اختیار کرنے چاہئیں۔۱۹ - حضرت خواجہ غلام فرید صاحب (چاچڑاں شریعت والے) وفات مسیح کے قائل ہیں۔اشارات فریدی میں لکھا ہے :- سخن در رفع حضرت عیسی علیہ السلام افتاده یکی از حضار عر من کرد که قبله حضرت علی علیه