ولکن شُبّھہ لھم — Page 16
ہوں اور طبعی موت کے بعد لند مقام میں رکھنے والا ہوں میں طرح حضرت اور میں علیہ السّلام کے بارہ میں آیت میں مذکور ہے کہ ہمنے ان کو بلند مقام پر رفعت دی۔۱۷ - علامہ ڈاکٹر محمد مود حجازی رپر و فیسر جامعه از رزم تغير الواضح میں اني متوفيك کی تفسیر میں وفات مسیح اس طرح ثابت فرماتے ہیں:۔مَكَرَ اللهُ بِهِمْ إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى إِلَى مُتَوَفِّيكَ أَجَلَكَ كَا مِنَّا وَلَنْ يَعْتَدِى عَلَيْكَ مُحْتَد أبدا فَهَذِهِ يَشَارَةٌ لَّهُ بِنَجَاتِهِ مِنْ مَكْرِهِمْ وَتَدْبِيرِهِمْ، وَدَافِعُكَ في مَكَانٍ وَعَلَى، وَالرَّفْعُ رَفْعُ مَكَانَةٍ لَّا مَعَانِ كَمَا قَالَ تَعَالَى فِى شَأنِ إِدْرِيسَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَفَعْنَاهُ : مَكَانًا عَليا) وَكَقَولِهِ في المُؤمِنِينَ رَنِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيك مقْتَدِرٍ فَلَيْسَ المعنى وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِهِ أَنَّ عِيسَى رَفَعَ إِلَى السَّمَاءِ وأنه منزل آخر الدُّنْيَا وَيَسْتَوَ فِي أَجَلَهُ ثُمَّ يَمُوتُ له ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے اُن کے خلاف تدبیر کی جب اس نے فرمایا کہ اسے عینی این تیری کامل عمر پوری کروں گا۔اور کوئی زیادتی کرنے والا تجھ پر اپنا دست دراز نہیں کر سکے گا۔پس یہ مسیح علیہ السّلام کے لیے ان یہود کے مکروں اور تدبیروں سے نجات کی ایک بشارت تھی اور رافعت میں اعلیٰ مقام میں رفعت مراد ہے اور اس رفع سے مراد مرتبے کا رفع ہے کسی جگہ پر جسمانی رفع هرگز مراد نہیں جیسا کہ اللہ تعالی حضرت ادریس علیہ السلام کی شان میں فرماتا ہے وَرَفَعْنَاهُ مَعَانَا عَلِیا۔اور جیسا کہ مومنوں کے بارے میں فرمایا فِی مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيك مُقْتَدِرٍ - پس رائعك کے معنی (واللہ اعلم) یہ نہیں ہیں کہ علی علیہ السلام کا ر ق آسمان کیا ہوا اور یہ کہ وہ دنیا کے آخرمیں پرانی گورانی دات پر پوری کرکے نا پائینگے لا التغير الواضح دكتور محمدمحمد حجازي جامعة الامر الجزء الاول مسلم مطبعة الاستقلال الكبرى بالقاهرة