ولکن شُبّھہ لھم

by Other Authors

Page 15 of 76

ولکن شُبّھہ لھم — Page 15

رفعت والی جگہ میں رکھنے والا ہوں میں طرح حضرت ادریس کے بارہ میں فرمایا کہ ہم نے اسے عزت والے مقام پر جگہ دی۔۱۵ - مفسر القرآن علامہ رشید رضا قاہرہ اپنی تفسیر القرآن الحکیم، این زیر میت اني متوفيك (ال عمران ) مسیح کی طبعی موت اور رفع روحانی کا یوں ذکر فرماتے ہیں :۔(قال) إن الآية عَلَى ظَاهِرِهَا وَ أَنَّ التَّوَنِي عَلَى مَعْنَاهُ الظَّاهِرِ المتبادر وهو الا مَاتَةُ العَادِيَةُ إِنَّ الرَّفْعَ يَكُونُ بَعْدَهُ وَهُوَ رفع الروح ا تفسير القرآن الحكيم الجزء الثالت مشا۳ - تاليف السيد محمد رشيد رضا منى المنار - الطبعة الثانية - ا صدرتها دار المناري شارع الانشا قاهره بنته ۳۶۶ اعلام ترجمہ :۔اور دوسرا طریق یہ ہے کہ اس آیت کو اس کے ظاہری معنی پر مانا جائے اور توفی کے ظاہری اور متبادر معنی تسلیم کیے جائیں جو کہ عام طبعی موت کے معنی ہیں اور یہ سلیم کیا جائے کہ رفع اس موت کے بعد ہے اور اس سے مرا در معانی رفع ہے۔14 ۱۶ - مفتر القرآن علامہ احمد المصطفى المراعي وفات مسیح کے قائل ہیں۔وہ آیت انی متوفیک کی تفسیر میں لکھتے ہیں :- إن الآية على ظَاهِرِهَا وَانَّ التَّوَفي هُوَ الإمانة العادية وان الرَّفْعَ تَبْدَها لِلرُّوحِ۔۔۔۔۔وَالْمَعْنى إني مُمِيتُكَ وَبَا عِلكَ بَعْدَ الوَيت لي مان رفيع كما قال في إدْرِيسَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا : 1 التغير المراعي الاستاذ احمد مصطفى المراضي جز ثالث ملا مكتبه الطبع مصطفی البابی الملبي مترنم یعنی آیت سے ظاہری معنی مراد ہیں اور توفی سے طبعی موت مراد ہے اور اس موت کے بعد رفع سے روحانی رفع مراد ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں تجھے موت دینے والا