ولکن شُبّھہ لھم — Page 5
لدھیانوی صاحب !۔آب فرمائیے کہ آپ اس عظیم الشان اجماع صحابیہ کا کس طرح انکار کریں گے۔اگر کسی ایک صحابی کا بھی یہ عقیدہ ہوتا کہ حضرت مسیح ناصری زنده آسمان پر موجود ہیں تو وہ حضرت ابو برید کے تمام نبیوں کی وفات کی قرآنی دلیل کو بڑی قوت سے رد کر تا اور اعلان کرتا کہ چونکہ حضرت عیسی علیہ السّلام زندہ آسمان پر موجود ہیں اور اسی پر ہمارا اجماع ہے لہذا ابوبکریہ کی یہ دلیل بالکل غلط اور بے حقیقت ہے کہ چونکہ سب گزشتہ انبیاء فوت ہو چکے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فوت ہونا تھا۔صحیح بخاری، اصح الکتب بعد کتاب اللہ ے مسلم الثبوت اس عظیم الشان اجماع کا منکر کون ہوگا ؟ اس کا فیصلہ ہم لدھیانوی صاحب پر نہیں ، سر صاحب بصیرت پر چھوڑتے ہیں۔آپ کے نام نہاد اجماع امت کو اس صحیح بخاری کی ایک حدیث نے پارہ پارہ کر دیا اور ہمیشہ کے لیے اس کا سر توڑنے کے لیے اس پر یہ آیت نگران رہے گی کہ وَمَا مُحَمَّدٌ الاَرَسُوْلَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (ال عمران : (۱۳۵) ترجمہ : اور مستند صرف ایک رسول ہے۔اس سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔پس جناب مولوی صاحب اہم ابوبکرین کے رنگ استدلال میں ہی گزارش کرتے ہیں کہ ہر درو شخص میں نے حضرت علی علیہ السّلام کو معبود بنارکھا ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے وہ جان نے کہ قرآن کی رو سے اُن کا یہ خُدا فوت ہو چکا ہے۔پھر بھی آپ کی مزید تسلی کے لیے چند بزرگان اُمت کے حوالے پیش کرتا ہوں جن میں سے ہر ایک آپ کے اجماع کی تعلی کی قلعی کھول رہا ہے۔