ولکن شُبّھہ لھم — Page 44
حق یہ ہے کہ یہ سب صحابہ کم و بیش وہ ہیں جو فات رسول پر مدینہ میں موجود تھے اور جین کا وفات مسیح پر اجماع ہوا۔کیا اس وقت ان صحابہ کو اپنا حیات سیر کا عقیدہ یاد نہیں رہا تھا۔ان میں سے ایک کا بھی اعتراض نہ اٹھانا یہ ثابت کر رہا ہے کہ آپ ان پر سراسر بہتان باندھ رہے ہیں کہ وہ نعوذ باللہ حیات مسیح اور اس کے رفع جسمی کے قائل تھے۔1 آپ نے حضرت مسیح کے عقیدہ حیات و نزول کے بارہ میں حسب ذیل بعض قرآنی آیات پیش کر کے ان سے حیات مسیح کا عقیدہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ل :- یہ آیت کہ وَمَكَرُوا وَ مَكَرَ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ المُكِرِينَ } (ال عمران : (٥٥) کہ سیہود نے تدبیر کی اور اللہ نے بھی تدبیر کی اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔اس آیت سے میسیج کی حیات یا نزول کا اشارہ تک نہیں ملتا اور جو تدبیر اللہ نے کی اسکا دوسری جگہ ذکر فرمایا که اويْتُهُمَا إِلَى رَبَّوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ هُ (مومنون ۵۱) کریم نے مسیح اور ان کی والدہ کو ایک بلند پہاڑی جگہ پر جو پرسکون اور چوں والی تھی پناہ دی پس یہود کی صلیب پر قتل کرنے کی تدبیر سے بچا کہ حضرت میں کو کشمیر کے علاقہ میں لاکر طبعی عمر سے وفات دینا اللہ تعالی کے خیر الماکرین ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ذرا سوچیئے آسمان پر لے جانا اور سیح کی جگہ ایک بے گناہ کو صلیب پر چڑھا دیتا اور ادھر یہود کو اس دھو کہ میں مبتلا رکھنا کہ گویا انہوں نے واقعی مسیح کو قتل کر دیا۔کیا یہ باتیں خیر الماکرین کو زیب دیتی ہیں۔نعوذ باللہ یہ ہرگز خداتعالی کا بہترین مگر نہیں بلکہ کسی خام نکرہ کا بد ترین مکر ہے جو اپنے پر اٹھتا ہے۔آپ نے اپنے کمر کو خدا تعالے کی طرف منسوب کرتے ہوئے ذرا بھر خوت نہیں کھایا اور ایسی بے ہودہ اور لغو تدبیر خدا کی طرف منسوب کی ہے کہ میں کا کنایتہ واشارت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں ذکر