ولکن شُبّھہ لھم

by Other Authors

Page 53 of 76

ولکن شُبّھہ لھم — Page 53

or ہے۔آپ نے اسی کے حق میں ایک اور دلیل پیش کر دی۔جناب لدھیانوی صاحب ایسی تو بار بار ہم آپ کو اور آپ کے ہمنواؤں کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ مسیح قبل دقبال ، قبل خنزیر اور کسیر صلیب کے لیے دنیا میں نازل ہوگا تو نبی اللہ ہوگا تو کیا اللہ تعالے کو مسلم نہیں تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ان معنوں میں ہیں کہ آپ کے بعد کسی قسم کا کوئی بنی ظاہر نہیں ہو سکتا اور خود حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جن پر یہ آیت خاتم النبین نازل ہوئی اس بات پر تعجب کیوں نہ ہوا۔پس ایک بات تو قطعی طور پر ثابت ہو چکی ہے کیونکہ فریقین کوتسلیم ہو چکی ہے۔آپ کو بھی اور ہمیں بھی کہ جس نبی اللہ عیسی کے آنے کی خبر دی گئی ہے وہ نبی اللہ ہی ہو گا۔اور اس کا آنا خدا تعالیٰ کے نزدیک آیت خاتم النبیین کے منافی نہیں ہوگا۔فیصلہ طلب بات اب یہی رہ گئی ہے کہ میں طرح قطعی طور پر آنے والے کا نبی اللہ ہونا ثابت ہو گیا۔اسی طرح قطعی طور پر یہ معلوم کیا جائے کہ آنے والا نبی اللہ کیا موسومی امت کا عیسی مسیح بنفس نفیس وہی ہو گا میں کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ رسولاً إلى بنی اسرائیل۔یا اس کی خوبو اور مثل بن کر امت محمدیہ میں پیدا ہونے والے ایک علام محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خطاب اور منصب عظام ہو گا۔پس آج کے بعد قطعی طور پر تسلیم کر لینے کے بعد کہ آنے والا موعود میں لا زمانی اللہ بھی ہے، آئندہ ہرگز نہم سے ختم نبوت کی بحث نہ چھڑ ہیں کیونکہ ہمارے اور آپ کے عقیدے میں اس پہلو سے قطعاً کوئی فرق نہیں۔ہاں جو فرق ہے اس پر جتنی چاہیں بخشیں کریں۔ہم حاضر ہیں اور ڈنکے کی پوٹ آپ سے اس بارہ میں مباحثہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں کہ مسیح ناصری قرآن کریم اور دیگر شواہد کی رو سے فوت ہو چکا ہے یا جسم سمیت زندہ آسمان پر چلا گیا۔