ولکن شُبّھہ لھم — Page 23
کہ ہم نے تم پر لباس اتارا ہے۔تم پر لوٹا اتارا ہے اور تم پر آٹھ جوڑوں کی صورت میں سچو پائے بھی نازل کیے ہیں۔لدھیانوی صاحب بتائیں کہ کیا یہ سارے اسی طرح آسمان سے نازل ہوئے ، نزول کے لفظ کو حضرت عیسی علیہ السلام کے لیے تو کڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔کہ وہ آسمان سے اتریں گئے بتائیں کہ جانور کہاں لٹک کر اترے تھے۔اسی قسم کے مولوی ہیں جنہوں نے ساری دنیا میں اسلام کو بدنام کر رکھا ہے۔اسی قسم کی عقل کے علماء ہیں جو قرآن کریم کی آیات کو ظاہر پر محمول کر کے ساری غیر مسلم دنیا کو اعتراض کے مواقع بہم پہنچا ر ہے ہیں لیکن پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے۔تمام صحارہ کو علم تھا کہ نزول کے کیا متے ہیں۔کیا انہیں قرآن کریم میں نزول کا لفظ نظر نہیں آتا تھا کہ ان مذکورہ بالا چیزوں کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ہاں جین معنوں میں قرآن کریم میں ان چیزوں کے لیے لفظ نزول آیا ہے انہیں معنوں میں وہ حضرت عیسی کے نزول کو سمجھتے تھے۔اور مولوی صاحب کہیں یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ صحابہ نے لوہے، لباس اور جانوردی کا آسمان سے لٹک کر اتر نا بتایا ہو۔ہمارے نزدیک لفظ نزول کے سادہ معنی انہیں کے مویز منقولی و معقولی دلائل ہیں ، یہ ہیں کہ امت محمدیہ میں آنے والا مسیح مطابق حدیث بخاری اِمَامُكُمْ مِنْكُم اور حدیث مسلم احد منحر وہ امت میں ہی پیدا ہو گا لیکن آپ یہ تو بتا ہے کہ آپ اس حدیث کو کیوں نظر انداز کر گئے جس پر علامہ سیوطی کی بحث کا تمام دارو مدار ہے۔اُن کی ساری بحث تو - لا نبی بعدی۔پر ہے اور وہ فرمارہے ہیں کہ اس حدیث کے یہ ظاہری معنے لینا کہ رسول اللہ کے بعد مطلقاً کوئی نبی نہیں آئے گا درست نہیں کیونکہ اس سے دو میں سے ایک بات بہر حال لازم آتی ہے۔