ولکن شُبّھہ لھم — Page 68
۶۸ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل جتنے رسول تھے سب فوت ہو چکے اور کوئی بھی زندہ آسمان پر موجود نہیں۔کتب تاریخ اور معتبر احادیث میں یہ واقعہ درج ہے جسے امام بخاری نے بھی نقل فرمایا ہے کہ جب حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا۔تو صحابہ غم کے مارے دیوانوں کی طرح ہو گئے یہاں تک کہ بعض کو یقین نہ آنا تھا کہ ایک ایوب آقا ان سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گیا ہے۔اس شدید غم کی کیفیت سے متاثر ہو کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت شدہ ماننے سے انکار کر دیا۔اور تلوار ہاتھ میںلے کر کھڑے ہو گئے کہ ہجو شخص بھی یہ کہے گا کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم فوت ہو گئے میں تلوار سے اس کی گردن اڑا دونگا۔آپ ہرگز فوت نہیں ہوئے۔بلکہ میں طرح حضرت موسیٰ علیہ السّلام چالیس دن کیلئے اپنی قوم سے الگ ہو کر خدا تعالے سے مناجات کرنے گئے تھے اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سبھی عارضی طور پر ہم سے جدا ہوئے ہیں اور واپس تشریف لے آئیں گے۔اس صورت حال میں بعض صحابہ نے حضرت ابو بکرہ کی طرف آدمی دوڑائے۔جب آپ تشریف لائے تو سیدنا و مولانا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعش مبارک کے پاس حاضر ہوئے ہو سفید کپڑے میں لپٹی پڑی تھی۔اس مبارک چہرے سے کپڑا اٹھایا اور یہ دیکھ کر کہ واقعی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاچکے ہیں بے اختیار آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے جھک کہ آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور عرض کیا کہ خدا تعالے آپ پر دو موتیں اکٹھی نہیں کرے گا۔یعنی یہ کہ آپ مرکز پھر زندہ اور زندہ ہو کر پھر نہیں مریں گے یا معنوی لحاظ سے یہ مراد ہو گی کہ آپ کا جسم تو رگیا لیکن آپ کا دین ہمیشہ زندہ رہے گا۔بہر حال یہ کمگر آپ روتے ہوئے با ہر صحابیہ کے مجمع میں سے تشریف لائے اور ان کے درمیان کھڑے ہو کر بعض آیات کی تلاوت کی جن میں سے پہلی یہ راه بخاری باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ودرفانه من - الجزء الثانی