ولکن شُبّھہ لھم — Page 63
۶۳ میں گریہ وزاری کرو اور میں طرح بن پڑے مسیح کو ایک دفعہ آسمان سے نیچے اُتار دو تو پھر یہ جھگڑا ایک دفعہ ختم ہو جائے گا اور ایسا عظیم الشان معجزہ دیکھ کراحمدی آنیوالے کو قبول کرنے میں تم پر بھی سبقت لے جائیں گے لیکن یاد رکھو ا ناممکن اور محال ہے اور ہر گنہ کبھی ایسا نہیں ہوگا کہ جو شخص آسمان پر چڑھا ہی نہ ہو اور دیگر انبیاء کی طرح طبعی موت سے فوت ہو چکا ہو وہ جسم سمیت آسمان سے ناندل ہو جائے۔سر کو پیٹو آسمان سے اب کوئی آتا نہیں عمر دُنیا سے بھی اب تو آگیا ختم ہزار قارئین کرام! قرآن کریم نے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بارہ میں کثرت سے قطعی ثبوت پیش فرمائے ہیں لیکن طوالت کے ڈر سے ہم آپ کی خدمت میں صرف یہ دو آیات پیش کرتے ہیں جو دو بر ہنہ سونٹتی ہوئی تلواروں کی طرح ہیں جو قرآنی بیان کے خلاف ہر کھڑے ہونے والے کا سر کاٹنے کے لیے تیار ہیں اور وہ یہ ہیں:۔پہلی آیت ہے:۔حضرت جیسے اعلیہ السلام کی وفات کی خبر دینے والی آیات میں سے ایک واضح آیت یہ مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ الأَ رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ، وَأُمَّةَ صِدِّيقَةٌ، كَانَا يَا كُلَن العامة الصورة مائده رکوع ۱۰- پاره و نه رکوع تمام ترجمہ: مسیح ابن مریم سوائے ایک سول کے اور کچھ نہ تھے اور ان سے قبل تمام رسول گذر چکے