ولکن شُبّھہ لھم

by Other Authors

Page 35 of 76

ولکن شُبّھہ لھم — Page 35

۳۵ ترتيب متوفيكَ دَرا فعك درست نہیں بلکہ اصل اور صحیح ترتیب اس کے الٹ رافع و متوفيك ہے۔ایسا عقیدہ رکھنا نہ صرف سوء ادبی ہے بلکہ سخت جاہلانہ خیال ہے اور عالم الغیب خدا پر اعتراض ہے جس کی جرات کوئی صاحب بصیرت انسان نہیں کر سکتا ر ہی حضرت ابن عباس کی وہ روایت جس میں مسیح کے دوبارہ نزول کا ذکر ہے سو وہ ہمارے لیے چنداں مصر نہیں کیونکہ نزولِ مسیح کے ہم بھی قائل ہیں مگر وفات مسیح کے بعد نزولِ مسیح سے ان کے مثیل کی آمد مراد لیتے ہیں۔یہی حال حضرت ابن عباس کا ہے جو متوفيك کے معنے موت کرتے ہیں اور مسیح کی وفات تسلیم کرتے ہیں اس کے بعد نزول پر ایمان یقیناً تعبیر طلب ہے۔جہاں تک تغیر ابن کثیر کی اس روایت کا تعلق ہے میں میں حضرت ابن عباس سے یہ قول منسوب ہے کہ میسیج کو زندہ آسمان پر اٹھالیا گیا اور یہود نے ان کی جگہ کسی اور کو پکڑ کر قتل و صلب کیا۔اول تو یہ روایت صحیح بخاری سے معارض ہونے کے باعث قابل رد ہے دوسرے یہ روایت ابتدائی زمانہ کی کسی حدیث یا تفسیر کی کتاب میں نہیں ملتی بلکہ سات صدیاں بعدا چانگ ابن کثیر کی تفسیر میں در آئی ہے۔حضرت ابن عباس کی طرف منسوب ایسی ہی روایات کو درخور اغتناء نہیں سمجھا گیا چنانچہ علامہ سیوطی لکھتے ہیں۔وَهُذِهِ التَّفَاسِيرُ العَوَالُ الَّتِي أَسْنَدُوهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ غَيْرُ مَرْضِيَّةٍ دَوَاهَا مَجَاعِيلُ كَتَفْسِيرِ جَوْ هَرِ عَنِ الضَّحَاكِ عَنِ ابْن عَبَّاسِ وَابْنِ جُرَيْجٍ فِي التَّفْسِيرِ جَمَاعَة رَوَوْا عَنْهُ (الاتقان في علوم القرآن للعلامہ سیوطی ج ۲ ص ۳۲ مطبوعہ مصر) اور یہ طویل تفاسیر جب لوگوں نے حضرت ابن عباس کی طرف منسوب کی ہیں ناپسندیدہ ہیں۔ان کے رادی غیر معروف ہیں جیسے جو ہر کی ضحاک سے اور اس کی ابن عباس سے یہ وایت اور ابن جریج کی تفسیر میں روایات جو ایک بڑی تعداد میں ان سے روایت کی گئی ہیں