ولکن شُبّھہ لھم — Page 21
(مرزائیت کے معلمی پنڈت جواہر لال نہرو کے جواب میں شاعر اسلام منکر مشرق علامہ ڈاکٹر سر حمد اقبال مدظلہ العالی کا بصیرت افروز بیان صفر ۲ ناشر سیکرٹری شعبه اشاعت و تبلیغ سید مبارک برانڈرس روڈ لاہور ما فروری ستاره نیز احمدیت اور اسلام و ختم نبوت اداراہ طلوع کراچی لدھیانوی صاحب ! ! ! اب فرمائیے کیا ان علماء نے آپ کے اجماع معیات مسیح کی وجھیاں بکھیر کر نہیں رکھ دیں۔رہا نزولِ مسیح پر اجتماع تو اس بارہ میں آنجناب نے شرح فقہ اکبر کی عبارتیں نقل کرنے کا خواہ مخواہ تکلف کیا ہے۔آپ بھی جانتے ہیں کہ نزول مسیح ایک پیشگوئی ہے جس کا تعلق امور غیبیہ سے ہے۔اجماع تو زمانہ ماضی یا بھال کے واقعات پر ہوتا ہے۔غیب کا تعلق تو مستقبل سے ہے۔یہیں پر ایمان لانا فرض ہے لیکن اس پر اجماع چہ معنی دارد ؟ پھر سوچیے کہ جس غیب کی حقیقت ہی معلوم نہیں اس پر اجماع کا مطلب کیا ہوا ؟ جہاں تک نزول مسیح کی پیشگوئی کا تعلق ہے۔ایک موعود بسیج مہدی کی آمد اور بعثت پر نہ صرف ہمارا ایمان ہے بلکہ ہم تو ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے پر گواہ بھی بن چکے ہیں۔جبکہ مسیح کے نزول کے انتظار کرنے والے مسلمان ۴۰۰ سالہ طویل انتظار سے تنگ آکر آب بالآخر اس عقیدہ سے ہی منکر ہوئے جاتے ہیں۔آپ نے نزول مسیح کے حق میں سنت پر علامہ سیوطی کے رسالہ الاعلام حکم علی علیہ السلام کا حسب ذیل حوالہ دینے کی بھی زحمت فرمائی ہے ثم يُقَالُ لهذا الراعم حل انت أخذ بظاهر الحديث من غير حمل على المعنى المذكور فيلزمك ا احد امْرَيْنِ ، مانعی نزول عيسى اونفى النبوة عنه وكلاهما