ولکن شُبّھہ لھم — Page 14
میچ کی دشمنوں سے حفاظت اور مسیح کو ان کے ارادہ قتل سے بچانے کا اشارہ اپنے اندر رکھتا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے میسج کی عمر کو پورا کر نے اور موت سے طبعی وفات لازم آتی ہے۔پھر رفع کے معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں اور ظاہر ہے کہ وہ رفع ہو تو فی کے بعد ہو سکتا ہے وہ رفع مرتبہ ہی ہے یہ فع جسمانی نہیں۔پھر رفع سماوی کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ریل تُفعَهُ اللهُ الیہ میں اکیه میں آسمان کا کوئی لفظ موجود نہیں ہے پھر جسمانی رفع کے قائلین کی طرف سے آسمان کا لفظ کہاں سے لیا جاتا ہے یقینا یہ قرآن کے ایک واضح مفہوم کے ساتھ زیادتی ہے محض ایسے تھے اور خلنی روایات قبول کرتے ہوئے جین پر کوئی دلیل تو کیا دلیل کا کوئی ادنی سا شائبہ بھی نہیں۔۱۴ - مفسر قرآن علامہ مفتی محمد عبده (قاہرہ) وفات مسیح کے قائل ہیں۔آیت انی متونيك (ال عمران) کی تفسیر میں لکھتے ہیں فان هَذا بَشَارَةٌ بِالْجَائِهِ مِنْ مَكْرِهِ وَلَمْ يَنَالُوا مِنْهُ مَا كانوا يزيدُونَ بِالْمَكْرِ وَ الْحَيلة۔۔۔۔۔۔فالمتبادر في الآية اني مُمِيتِكَ وَجَاعِلُكَ بَعْدَ الْمَوْتِ فِي مَكَانٍ دَقِيعَ كَمَا قَالَ فِي ا درئيسَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا " (تفسير القرآن الحكيم الاستاذ محمد عبده جز نالت بل ۳۱ الطبعة الاولى مطبعہ منار مصر ۱۳۲۵ھ) : پس یہ آیت میسج کو بیہود کی تدبیر اور حیلہ سے بچانے کے لیے بشارت ہے۔اور یہ کہ جو تدبیر وہ مسیح کے خلاف کرنا چاہتے تھے اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔پس آیت کے اولین معنی یہی ہیں کہ رائے عیسی) میں تجھے موت دینے والا ہوں اور موت کے بعد ایک عزت