حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 32
32 مارتے رہیں، ان کو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔اعمال کے باغ کی سرسبزی پاکیزگی قلب سے ہوتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَشْهَا کر وہی بامراد ہو گا جو کہ اپنے قلب کو پاکیزہ کرتا ہے اور جو اُسے پاک نہ کر یگا بلکہ خاک میں ملادے گا یعنی سفلی خواہشات کا اسے مخزن بنارکھے گا وہ نامر ادر ہے گا۔اس بات سے نہیں انکار نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف آنے کے لئے ہزار ہا روکیں ہیں۔اگر یہ نہ ہوتیں تو آج صفحہ دنیا پر نہ کوئی ہندو ہوتا نہ عیسائی۔سب کے سب مسلمان نظر آتے۔لیکن ان روکوں کو دور کرنا بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے۔وہی توفیق عطا کرے تو انسان نیک و بد میں تمیز کر سکتا ہے۔اس لئے آخر کار بات پھر اسی پر آٹھہرتی ہے کہ انسان اسی کی طرف رجوع کرے تا کہ قوت اور طاقت دیوے۔دنیا میں جس قدر مشورے نفس پرستی اور شہوت پرستی وغیرہ کے ہوتے ہیں۔ان سب کا ماخذ نفس امارہ ہی ہے۔لیکن اگر انسان کوشش کرے تو اسی امارہ سے پھر وہ تو امہ بن جاتا ہے۔کیونکہ کوشش میں ایک برکت ہوتی ہے اور اس سے بھی بہت کچھ تغیرات ہو جاتے ہیں۔پہلوانوں کو دیکھو کہ وہ ورزش اور محنت سے بدن کو کیا کچھ بنا لیتے ہیں۔تو کیا وجہ ہے کہ محنت اور کوشش سے نفس کی اصلاح نہ ہو سکے نفس امارہ کی مثال آگ کی ہے جو کہ مشتعل ہو کر ایک جوش طبیعت میں پیدا کرتا ہے۔جس سے انسان حد اعتدال سے گزر جاتا ہے۔لیکن جیسے پانی آگ سے گرم ہو کر آگ کی مثال تو ہو جاتا ہے اور جو کام آگ سے لیتے ہیں وہ اس سے بھی لے لیتے ہیں مگر جب اسی پانی کو آگ کے اوپر گرایا جائے تو وہ اس آگ کو بجھا دیتا ہے۔کیونکہ ذاتی صفت اس کی آگ کو بجھانا ہے۔وہ وہی رہے گی۔ایسے ہی اگر انسان کی روح نفس امارہ کی آگ سے خواہ کتنی ہی گرم کیوں نہ ہو مگر جب وہ نفس سے مقابلہ کرے گی اور اس کے اوپر گرے گی تو اسے مغلوب کر کے چھوڑے گی۔بات صرف اتنی ہے الشمس: ۱،۱۰ 11: