حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 16
16 دوسرے کے ساتھ میل ملاپ اور معاملات میں پیش آتی ہیں اور ذرا ذراسی بات اور اختلاف رائے پر دلوں میں بغض ، کینہ، حسد، ریا، تکبر پیدا ہو جاتا ہے۔اور اپنے بھائی کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔چند روز اگر نماز سنوار کر پڑھی ہے اور لوگوں نے تعریف کی تو ریا اور نمود پیدا ہو گیا اور وہ اصل غرض جو اخلاص تھی جاتی رہی۔اور اگر خدا تعالیٰ نے دولت دی ہے یا علم دیا ہے یا کوئی خاندانی وجاہت حاصل ہے تو اس کی وجہ سے اپنے دوسرے بھائی کو جس کو یہ باتیں نہیں ملی ہیں، حقیر اور ذلیل سمجھتا ہے اور اپنے بھائی کی عیب چینی کے لئے حریص ہوتا ہے اور تکبر مختلف رنگوں میں ہوتا ہے۔کسی میں کسی رنگ میں اور کسی میں کسی طرح سے۔علماء علم کے رنگ میں اُسے ظاہر کرتے ہیں۔اور علمی طور پر نکتہ چینی کر کے اپنے بھائی کو گرانا چاہتے ہیں۔غرض کسی نہ کسی طرح عیب چینی کر کے اپنے بھائی کو ذلیل کرنا اور نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔رات دن اس کے عیبوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔اس قسم کی باریک بدیاں ہوتی ہیں جن کا دور کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور شریعت ان باتوں کو جائز نہیں رکھتی ہے۔ان بدیوں میں عوام ہی مبتلا نہیں ہوتے بلکہ وہ لوگ جو متعارف اور موٹی موٹی بدیاں نہیں کرتے ہیں اور خواص سمجھے جاتے ہیں وہ بھی اکثر مبتلا ہو جاتے ہیں۔ان سے خلاصی پانا اور مرنا ایک ہی بات ہے۔اور جب تک ان بدیوں سے نجات حاصل نہ کر لے تزکیہ نفس کامل طور پر نہیں ہوتا اور انسان ان کمالات اور انعامات کا وارث نہیں بنتا جو تز کیہ نفس کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں۔بعض لوگ اپنی جگہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان اخلاقی بدیوں سے ہم نے خلاصی پالی ہے۔لیکن جب کبھی موقعہ آپڑتا ہے اور کسی سفیہ سے مقابلہ ہو جاوے تو انہیں بڑا جوش آتا ہے۔اور پھر وہ گند اُن سے ظاہر ہوتا ہے جس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔اس وقت پتہ لگتا ہے کہ ابھی کچھ بھی حاصل نہیں کیا۔اور وہ تزکیہ نفس جو کامل کرتا ہے میتر نہیں۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تزکیہ جس کو اخلاقی تزکیہ کہتے ہیں بہت ہی مشکل ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔اس فضل کے جذب کرنے کے لئے بھی وہی