حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 2
2 کچھ ایسا از خود رفتہ ہو جاتا ہے کہ نفس امارہ غالب آجاتا ہے۔اس کے بعد پھر تیسرا زمانہ آتا ہے کہ علم کے بعد پھر لاعلمی آجاتی ہے۔اور حواس میں اور دوسرے قومی میں فتور آنے لگتا ہے۔یہ پیرانہ سالی کا زمانہ ہے۔بہت سے لوگ اس زمانہ میں بالکل حواس باختہ ہو جاتے ہیں اور قومی بیکار ہو جاتے ہیں۔اکثر لوگوں میں جنون کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔ایسے بہت سے خاندان ہیں کہ ان میں ۶۰ یا ۷۰ سال کے بعد انسان کے حواس میں فتور آ جاتا ہے۔غرض اگر ایسا نہ بھی ہو تو بھی قومی کی کمزوری اور طاقتوں کے ضائع ہو جانے سے انسان ہوش میں بے ہوش ہوتا ہے اور ضعف و تکامل اپنا اثر کرنے لگتا ہے۔انسان کی عمر کی تقسیم انہیں تین زمانوں پر ہے اور یہ تینوں ہی خطرات اور مشکلات میں ہیں۔پس اندازہ کرو کہ خاتمہ بالخیر کے لئے کس قدر مشکل مرحلہ ہے۔بچپن کا زمانہ تو ایک مجبوری کا زمانہ ہے۔اس میں سوائے لہو ، لعب اور کھیل کو د اور چھوٹی چھوٹی خواہشوں کے اور کوئی خواہش ہی نہیں ہوتی۔ساری خواہشوں کا منتہا کھانا پینا ہی ہوتا ہے۔دنیا اور اس کے حالات سے محض ناواقف ہوتا ہے۔امور آخرت سے بکلّی نا آشنا اور لا پروا ہوتا ہے۔عظیم الشان امور کی اسے کوئی خبر ہی نہیں ہوتی۔وہ نہیں جانتا کہ دنیا میں اس کے آنے کی کیا غرض اور مقصد ہے۔یہ زمانہ تو یوں گذر گیا۔اس کے بعد جوانی کا زمانہ آتا ہے۔کچھ شک نہیں کہ اس زمانہ میں اس کے معلومات بڑھتے ہیں اور اس کی خواہشوں کا حلقہ وسیع ہوتا ہے مگر جوانی کی مستی اور نفس امارہ کے جذبات عقل مار دیتے ہیں اور ایسی مشکلات میں پھنس جاتا ہے اور ایسے ایسے حالات پیش آتے ہیں کہ اگر ایمان بھی لاتا ہے تب بھی نفس امارہ اور اس کے جذبات اپنی طرف کھینچتے ہیں اور اُسے ایمان اور اس کے ثمرات سے دور پھینک دینے کے لئے حملے کرتے ہیں۔اس کے بعد جو پیرانہ سالی کا زمانہ ہے وہ تو بجائے خود ایسا نکما اور رڈی ہوتا ہے جیسے کسی چیز سے عرق نکال لیا جاوے اور اس کا پھوگ باقی رہ جاوے۔اسی طرح پر انسانی عمر کا پھوگ بڑھاپا ہے۔انسان اس