حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 6
6 میں سچ کہتا ہوں کہ جب انسان نفس امارہ کے پنجہ میں گرفتار ہونے کے باوجود بھی تدبیروں میں لگا ہوا ہوتا ہے تو اس کا نفس امارہ خدا تعالیٰ کے نزدیک لو امہ ہو جاتا ہے اور ایسی قابل قدر تبدیلی پالیتا ہے کہ یا تو وہ امارہ تھا جولعنت کے قابل تھا اور یا تدبیر اور تجویز کرنے سے وہی قابل لعنت نفس امارہ نفس تو امہ ہو جاتا ہے جس کو یہ شرف حاصل ہے کہ خدا تعالیٰ بھی اس کی قسم کھاتا ہے۔یہ کوئی چھوٹا شرف نہیں ہے۔پس حقیقی تقویٰ اور طہارت کے حاصل کرنے کے واسطے اول یہ ضروری شرط ہے کہ جہاں تک بس چلے اور ممکن ہوتد بیر کرو اور بدی سے بچنے کی کوشش کرو۔اور بد عادتوں اور بدصحبتوں کو ترک کر دو۔اُن مقامات کو چھوڑ دو جو اس قسم کی تحریکوں کا موجب ہوسکیں۔جس قدر دنیا میں تدبیر کی راہ کھلی ہے اس قد ر کوشش کرو۔اور اس سے نیچھ کو نہ ہٹو۔دوسرا طریق دُعا ہے دوسرا طریق حقیقی پاکیزگی کے حاصل کرنے اور خاتمہ بالخیر کے لئے جو خدا تعالیٰ نے سکھایا ہے وہ دعا ہے۔اس لئے جس قدر ہو سکے دعا کرو۔یہ طریق بھی اعلیٰ درجہ کا مجرب اور مفید ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے خود وعدہ فرمایا ہے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہارے لئے قبول کروں گا۔دعا ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے ساتھ مسلمانوں کو فخر کرنا چاہئے۔دوسری قوموں کو دعا کی کوئی قدر نہیں۔اور نہ انہیں اس پاک طریق پر کوئی فخر اور ناز ہوسکتا ہے۔اسلام کا خاص فخر بلکہ یہ فخر اور ناز صرف صرف اسلام ہی کو ہے دوسرے مذاہب اس سے بکائی بے بہرہ ہیں۔مثلاً عیسائیوں نے جب یہ سمجھ لیا ہے کہ ایک انسان (جس کو انہوں نے خدا مان لیا ) نے المومن : ۶۱