حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 7
7 ہمارے لئے قربانی دے دی ہے۔انہوں نے اس پر بھروسہ کر لیا اور سمجھ لیا کہ ہمارے سارے گناہ اُس نے اٹھالئے ہیں۔پھر وہ کونسا امر ہے جو اس کو دعا کے لئے تحریک کرے گا۔ناممکن ہے کہ وہ گدازش دل کے ساتھ دعا کرے۔دعا تو وہ کرتا ہے جو اپنی ذمہ داری اور جواب دہی کو سمجھتا ہے۔لیکن جو شخص اپنے آپ کو بری الذمہ تصور کرتا ہے وہ دعا کیوں کرے گا۔اس نے تو پہلے ہی سمجھ لیا ہے کہ گناہ دوسرے شخص نے اُٹھالئے ہیں اور اس طرح پر اس کے ذمہ کوئی جو ابد ہی نہیں تو اس کے دل میں تحریک کس طرح ہوگی۔اس نے اور شئے پر بھروسہ کر لیا ہے اور اس طرح پر اس طریق سے جو دعا کا طریق ہے وہ دور چلا گیا ہے۔غرض ایک عیسائی کے نزدیک دعا بالکل بے سود ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کر سکتا۔اس کے دل میں وہ رقت اور جوش جو دعا کے لئے حرکت پیدا کرتا ہے ،نہیں ہوسکتا۔اسی طرح پر ایک آریہ جو تناسخ کا قائل ہے اور سمجھتا ہے کہ تو بہ قبول ہی نہیں ہو سکتی اور کسی طرح پر اس کے گناہ معاف نہیں ہو سکتے۔وہ دعا کیوں کرے گا؟ اس نے تو یہ یقین کیا ہوا ہے کہ جونوں کے چکر میں جانا ضروری ہے۔اور بیل ،گھوڑا ، گدھا، گائے ، کہتا ،سور وغیرہ بننا ہے۔وہ اس راہ کی طرف آئے گا ہی نہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دعا اسلام کا خاص فخر ہے اور مسلمانوں کو اس پر بڑا ناز ہے۔مگر یہ یاد رکھو کہ یہ دعا زبانی بک بک کا نام نہیں ہے بلکہ یہ وہ چیز ہے کہ دل خدا تعالیٰ کے خوف سے بھر جاتا ہے اور دعا کرنے والے کی رُوح پانی کی طرح بہہ کر آستانہ اُلوہیت پر گرتی ہے اور اپنی کمزوریوں اور لغزشوں کے لئے قومی اور مقتدر خدا سے طاقت اور قوت اور مغفرت چاہتی ہے۔اور یہ وہ حالت ہے کہ دوسرے الفاظ میں اس کو موت کہہ سکتے ہیں۔جب یہ حالت میسر آجاوے تو یقیناً سمجھو کہ باب اجابت اس کے لئے کھولا جاتا ہے۔اور خاص قوت اور فضل اور استقامت بدیوں سے بچنے اور نیکیوں پر استقلال کے لئے عطا ہوتی ہے۔یہ ذریعہ سب سے بڑھ کر زبردست ہے۔