حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 3
3 وقت نہ دنیا کے لائق رہتا ہے اور نہ دین کے مخبوط الحواس اور مضمحل سا ہو کر اوقات بسر کرتا ہے۔قوئی میں وہ تیزی اور حرکت نہیں ہوتی جو جوانی میں ہوتی ہے۔اور بچپن کے زمانہ سے بھی گیا گذرا ہو جاتا ہے۔بچپن میں اگر چہ شوخی حرکت اور نشو ونما ہوتا ہے لیکن بڑھاپے میں یہ باتیں نہیں۔نشو ونما کی بجائے اب قویٰ میں تحلیل ہوتی ہے۔اور کمزوری کی وجہ سے شستی اور کا ہلی پیدا ہونے لگتی ہے۔بچہ اگر چہ نماز اور اس کے مراتب اور ثمرات اور فوائد سے ناواقف ہوگا یا ہوتا ہے لیکن اپنے کسی عزیز کو دیکھ کر ریس اور اُمنگ ہی پیدا ہو جاتی ہے۔مگر اس پیرانہ سالی کے زمانہ میں تو اس کے بھی قابل نہیں رہتا۔حواس باطنی میں جس طرح اس وقت فرق آجاتا ہے حواس ظاہری میں بھی معمر ہو کر بہت کچھ فتور پیدا ہو جاتا ہے۔بعض اندھے ہو جاتے ہیں۔بہرہ ہو جاتے ہیں۔چلنے پھرنے سے عاری ہو جاتے ہیں اور قسم قسم کی مصیبتوں اور دکھوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔غرض یہ زمانہ بھی بڑا ہی رہی زمانہ ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی زمانہ ہے جوان دونوں کے بیچ کا زمانہ ہے یعنی شباب کا جب انسان کوئی کام کر سکتا ہے۔کیونکہ اس وقت قویٰ میں نشو ونما ہوتا ہے۔اور طاقتیں آتی ہیں۔لیکن یہی زمانہ ہے جبکہ نفس امارہ ساتھ ہوتا ہے۔اور وہ اس پر مختلف رنگوں میں حملے کرتا ہے اور اپنے زیر اثر رکھنا چاہتا ہے۔یہی زمانہ ہے جو مؤاخذہ کا زمانہ ہے۔اور خاتمہ بالخیر کے لئے کچھ کرنے کے دن بھی یہی ہیں۔لیکن ایسی آفتوں میں گھر اہوا ہے کہ اگر بڑی سعی نہ کی جاوے تو یہی زمانہ ہے جو جہنم میں لے جائے گا اور شقی بنا دے گا۔ہاں اگر عمدگی اور ہوشیاری اور پوری احتیاط کے ساتھ اس زمانہ کو بسر کیا جاوے تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اُمید ہے کہ خاتمہ بالخیر ہو جاوے کیونکہ ابتدائی زمانہ تو بے خبری اور غفلت کا زمانہ ہے۔اللہ تعالیٰ اس کا مواخذہ نہ کرے گا۔جیسا کہ اس نے خود فرمایا: لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْساً إِلَّا وُسْعَهَا ۖ اور آخری زمانہ میں گوبڑھاپے کی وجہ سے البقرة: ۲۸۷