حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 4
4 سستی اور کاہلی ہوگی لیکن فرشتے اس وقت اس کے اعمال میں وہی لکھیں گے جو جوانی کے جذبات اور خیالات ہیں۔جوانی میں اگر نیکیوں کی طرف مستعد اور خدا تعالیٰ کا خوف رکھنے والا ، اس کے احکام کی تعمیل کرنے والا اور نواہی سے بچنے والا ہے تو بڑھاپے میں گوان اعمال کی بجا آوری میں کسی قدر سستی بھی ہو جاوے لیکن اللہ تعالیٰ اسے معذور سمجھ کر ویسا ہی اجر دیتا ہے۔ہر شخص بڑھے انسان کو دیکھتا ہے کہ وہ کیسا از خود رفتگی کا زمانہ ہے۔کوئی بات چشمدید کی طرح سمجھ میں نہیں آتی ہے۔اس لئے ان لوگوں پر خدا تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہوتا ہے جو ابتدائی زمانہ میں اس زمانہ کے لئے سعی کرتے ہیں اور اس زمانہ میں ان کے لئے وہی تقویٰ اور خدا تعالیٰ کی بندگی لکھی جاتی ہے۔غرض آخر وہی ایک زمانہ جو جوانی کے جذبات اور نفس امارہ کی شوخیوں کا زمانہ ہے کچھ کام کرنے کا زمانہ رہ جاتا ہے۔اس لئے اب سوچنا چاہئے کہ وہ کیا طریق ہے جس کو اختیار کر کے انسان کچھ آخرت کے لئے کما سکے۔جوانی کا زمانہ کیسے مفید ہو اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ زمانہ جو شباب اور جوانی کا زمانہ ہے ایک ایسا زمانہ ہے که نفس امارہ نے اس کو رڈی کیا ہوا ہے لیکن اگر کوئی کارآمد ایام ہیں تو یہی ہیں۔حضرت یوسف علیہ السلام کی زبانی قرآن شریف میں درج ہے ومـا ابرئ نفسي ان النفس لامارة بالسوء الامارحم ربی یعنی میں اپنے نفس کو بری نہیں ٹھہر اسکتا کیونکہ نفس امارہ بدی کی طرف تحریک کرتا ہے۔اس کی اس قسم کی تحریکوں سے وہی پاک ہو سکتا ہے جس پر میرا رب رحم کرے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ کی بدلیوں اور جذبات سے بچنے کے واسطے بری کوشش ہی شرط نہیں بلکہ دعاؤں کی بہت بڑی ضرورت ہے۔نراز ہدظاہری ہی ( جو انسان اپنی سعی اور کوشش سے کرتا ہے ) کارآمد نہیں ہوتا۔جب تک خدا تعالیٰ کا فضل یوسف:۵۴