حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 5
5 اور رحم ساتھ نہ ہو اور اصل تو یہ ہے کہ اصل زہد اور تقویٰ تو ہے ہی وہی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔ حقیقی پاکیزگی اور حقیقی تقوی اسی طرح ملتا ہے۔ ورنہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ بہت سے جامے بالکل سفید ہوتے ہیں اور باوجو د سفید ہونے کے بھی وہ پلید ہو سکتے ہیں تو اس ظاہری تقویٰ اور طہارت کی ایسی ہی مثال ہے۔ تاہم اس حقیقی پاکیزگی اور حقیقی تقویٰ اور طہارت کے حصول کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسی زمانہ شباب و جوانی میں انسان کوشش کرے جبکہ قومی میں قوت اور طاقت اور دل میں ایک اُمنگ اور جوش ہوتا ہے۔ اس زمانہ میں کوشش کرنا عقلمند کا کام ہے۔ اور عقل اسی لئے اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔ اول تدبیر کرو اس مقصد کے حاصل کرنے کے واسطے (جیسا کہ میں پہلے کئی مرتبہ بیان کر چکا ہوں ) اول ضروری ہے کہ انسان دیدہ دانستہ اپنے آپ کو گناہ کے گڑھے میں نہ ڈالے۔ ورنہ وہ ضرور ہلاک ہوگا۔ جو شخص دیدہ دانستہ بد راہ اختیار کرتا ہے یا کنوئیں میں گرتا ہے اور زہر کھاتا ہے وہ یقیناً ہلاک ہوگا۔ ایسا شخص نہ دنیا کے نزدیک اور نہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل رحم ٹھہر سکتا ہے۔ اس لئے یہ ضروری اور بہت ضروری ہے خصوصاً ہماری جماعت کے با سکتا لئے (جس کو اللہ تعالیٰ نمونہ کے طور پر انتخاب کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک نمونہ ٹھہرے) کہ جہاں تک ممکن ہے بد صحبتوں اور بد عادتوں سے پر ہیز کریں۔ اور اپنے آپ کو نیکی کی طرف لگائیں۔ اس مقصد کے حاصل کرنے کے واسطے جہاں تک تدبیر کا حق ہے تدبیر کرنی چاہئے اور کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرنا چاہئے۔ یا د رکھو تد بیر بھی ایک مخفی عبادت ہے۔ اس کو حقیر مت سمجھو۔ اسی سے وہ راہ کھل جاتی ہے جو بدیوں سے نجات پانے کی راہ ہے۔ جو لوگ بدیوں سے بچنے کی تجویز اور تدبیر نہیں کرتے ہیں وہ گویا بدیوں پر راضی ہو جاتے ہیں۔ اور اس طرح پر خدا تعالیٰ اُن سے الگ ہو جاتا ہے۔