حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 39

حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 13

13 سے شیطانی حملوں سے احتیاط کی جاوے۔جو شخص ان تینوں ہتھیاروں سے ا۔نہیں کرتا ہے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ کسی اتفاقی حملہ سے نقصان اٹھاوے۔دفع شر وکس خیر لیکن یہ بات یادرکھو کہ کتابوں میں جب لکھا جاتا ہے کہ بدیاں چھوڑ دو اور نیکیاں کرو تو بعض آدمی اتنا ہی سمجھ لیتے ہیں کہ نیکیوں کا کمال اسی قدر ہے کہ جو مشہور بدیاں ہیں مثلاً چوری ، زنا، غیبت، بد دیانتی ، بدنظری وغیرہ موٹی موٹی بدیوں سے بچتے ہیں تو اپنے آپ کو سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم نے نیکی کے تمام مدارج حاصل کر لئے ہیں اور ہم بھی کچھ ہو گئے ہیں۔حالانکہ اگر غور کر کے دیکھا جاوے تو یہ کچھ بھی چیز نہیں ہے۔بہت سے لوگ ایسے ہیں جو چوری نہیں کرتے ہیں۔بہت سے ایسے ہیں جو ڈا کے نہیں مارتے یا خون نہیں کرتے یا بدنظری یا بدکاری کی بد عادتوں میں مبتلا نہیں ہیں۔زیادہ سے زیادہ اسے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس نے ترک شرکیا ہے۔خواہ وہ عدم قدرت ہی کی وجہ سے ہو۔قرآن شریف صرف اتنا ہی نہیں چاہتا کہ انسان ترک شر کر کے سمجھ لے کہ بس اب میں صاحب کمال ہو گیا۔بلکہ وہ تو انسان کو اعلیٰ درجہ کے کمالات اور اخلاق فاضلہ سے متصف کرنا چاہتا ہے کہ اس سے ایسے اعمال و افعال سرزد ہوں جو بنی نوع کی بھلائی اور ہمدردی پر مشتمل ہوں اور اُن کا نتیجہ یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاوے۔میں اس بات کو بار بار کہتا ہوں کہ تم میں سے کوئی اپنی ترقی اور کمال رُوحانی کی یہی انتہا نہ سمجھ لے کہ میں نے ترک بدی کی ہے۔صرف ترک بدی نیکی کے کامل مفہوم اور منشاء کو اپنے اندر نہیں رکھتی۔بار بار ایسا تصور کرنا کہ میں نے خون نہیں کیا خوبی کی بات نہیں کیونکہ خون کرنا ہر ایک شخص کا کام نہیں ہے۔یا یہ کہنا کہ زنا نہیں کیا کیونکہ زنا کرنا تو کنجروں کا کام ہے نہ کہ کسی شریف انسان کا۔ایسی بدیوں سے پر ہیز زیادہ سے زیادہ انسان کو بد معاشوں کے طبقے سے خارج کر دے گا۔اور اس سے