حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 8
8 دُعا اور اہلِ زمانہ مگر بڑی مشکل یہ ہے کہ لوگ دُعا کی حقیقت اور حالت سے محض ناواقف ہیں۔اور اسی وجہ سے اس زمانہ میں بہت سے لوگ اس سے منکر ہو گئے ہیں۔کیونکہ وہ ان تاثیرات کو نہیں پاتے اور منکر ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہونا ہے وہ تو ہونا ہی ہے۔پھر دُعا کی کیا حاجت ہے۔مگر میں خوب جانتا ہوں کہ یہ تونر ابہانہ ہے انہیں چونکہ دعا کا تجربہ نہیں اس کی سلمنا خیرات پر اطلاع نہیں اس لئے اس طرح کہہ دیتے ہیں۔ورنہ اگر وہ ایسے ہی متوکل ہیں تو پھر بیمار ہو کر علاج کیوں کرتے ہیں؟ خطرناک امراض میں مبتلا ہوتے ہیں تو طبیب کی طرف دوڑے جاتے ہیں۔بلکہ میں سچ کہتا ہوں کہ سب سے زیادہ چارہ کرنے والے یہی ہوتے ہیں۔سید احمد خان بھی دعا کے منکر تھے۔لیکن جب اُن کا پیشاب بند ہوا تو دہلی سے معالج ڈاکٹر کو بلایا۔یہ نہ سمجھ لیا کہ خود بخود ہی پیشاب کھل جاوے گا۔حالانکہ وہی خدا ہے جس کے ملکوت میں ظاہری دُنیا ہے جبکہ دوسرے اشیاء میں تاثیرات موجود ہیں تو کیا وجہ ہے کہ باطنی دنیا میں تاثیرات نہ ہوں۔جن میں سے دعا ایک زبردست چیز ہے۔یہ بیچ ہے کہ خدا تعالیٰ کے قضا و قدر میں سب کچھ ہے۔مگر کوئی یہ تو بتائے کہ خدا تعالیٰ نے وہ فہرست کس کو دی ہے جس سے معلوم ہو جاوے۔میں سچ کہتا ہوں کہ ان اسرار پر کوئی فتح نہیں پاسکتا۔ظاہر میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص قبض سے بیمار ہے تو تر بد یا کسٹرائیل جب اس کو دیا جاوے گا تو اسے اسہال آجاویں گے۔اور قبض کھل جائے گی کیا یہ اس امر کا بین ثبوت نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ نے تاثیرات رکھی ہوئی ہیں۔اسی طرح پر اور تدابیر کرنے والے ہیں۔مثلاً زراعت کرنے والے اور یہی معالجات کرنے والے وہ خوب جانتے ہیں کہ ان تدابیر کی وجہ سے انہوں نے فائدہ اُٹھایا الحکم جلد ۹ نمبر ا صفحه ۲ ۳۰ مورخه ۱۰ار جنوری ۱۹۰۵ء