دینیات کی پہلی کتاب — Page 128
کا کام یہ ہے کہ وہ تمہاری رُوحانی بیماریوں (جہل اور اخلاق بد ) کا علاج کرے۔(۳) اپنے اُستاد سے ہمیشہ تواضع اور انکسار کے ساتھ پیش آؤ۔اور اس کی خدمت کو اپنا فخر سمجھو۔ایک حدیث کا مضمون ہے کہ خوشامد کرنا مومن کے اخلاق میں سے نہیں ہے۔لیکن علم کے طلب میں خوشامد کرنا معیوب نہیں۔“ (۴) اُستاد کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ بیٹھو۔اُس کی تقریر کو انتہائی توجہ کے ساتھ سُنو۔اور اُس کے مفید نصائح پر ہمیشہ کار بندر ہو۔(۵) دوران تعلیم میں جو بات سمجھ میں نہ آئے۔اُس کی بابت ضرور سوال کرو لیکن اُستاد کا ادب و احترام اور حسن عبارت کو مہِ نظر رکھو۔فضول سوال کبھی نہ رکیا کرو۔جو کچھ پوچھوسوچ سمجھ کر معقولیت کے ساتھ پوچھو۔اگر تم سے سوال کیا جائے۔جب بھی انہی امور کوملحوظ رکھو۔اور پہلے تو لو پھر بولو کے اُصول پر عمل کرو۔(1) مدرسہ کے باہر بھی اپنے اُستاد کے ادب اور احترام کو فراموش نہ کرو۔اور راستے میں کہیں ملاقات ہو جائے تو ادب کے ساتھ سلام کرو۔اور اُس کی تعظیم و تکریم میں کو تا ہی نہ کرو۔(منقول از جامع الآداب صفحه ۲۶ تا ۳۴٬۳۰ تا ۳۷) مشکل الفاظ کا حل:- (۱) تعلم علم سیکھنا۔(۲) بصیرت۔اندرونی روشنی سمجھ۔(۳) تہذیب و تمدن۔عمدہ طریق سے رہنا سہنا۔(۴) آثار نشان۔(۵) صیقل۔چمکدار۔(۶) حقائق نفس الامریہ۔چیزوں کی اصل حقیقت۔