دینیات کی پہلی کتاب — Page 127
۱۲۷ اُستاد کے آداب أقَدِّمُ اسْتَاذِى عَلَى نَفْسٍ وَالِدِي وَإِنْ نَالَنِيْ مِنْ وَالِدِى الْفَضْلِ وَالشَّرَف فَذَاكَ مُرَبِّى الرُّوحِ وَالرُّوْحُ جَوْهَرٌ وَهَذَا مُرَبِّى الْجِسْمِ وَالْجِسْمُ كَالصَّدَف ترجمہ میں اُستاد کا درجہ خود اپنے والد سے مقدم سمجھتا ہوں۔اگر چہ مجھ کو اپنے والد سے ہی فضیلت اور شرافت نسبی حاصل ہوئی ہے۔کیونکہ میرے اُستاد نے میری رُوحانی تربیت فرمائی ہے۔اور والد نے میرے جسم کی پرورش کی ہے۔اور ظاہر ہے کہ رُوح بمنزلہ جو ہر کے ہے اور بدن اس کا صدف ہے۔(۱) اُستاد کا ادب اور احترام ہر وقت ملحوظ رکھو۔اور باپ سے اس کا حق زیادہ سمجھو۔کیونکہ باپ نے تمہارے جسم کی پرورش کی ہے۔لیکن اُستاد نے تمہاری عقل اور رُوح کی تربیت فرمائی ہے۔(۲) رکسی بات میں اُستاد کی مخالفت نہ کرو۔اور خصوصا تعلیمی اُمور میں اُس کو اپنا کامل رہنما سمجھو۔تمہاری مثال ایک جاہل مریض کی ہے۔جس کو ہر حالت میں حکیم اور ڈاکٹر کی ہدایت کی پیروی کرنا لازم ہے۔اُس کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ ڈاکٹر کے تجویز کردہ نسخہ پر نکتہ چینی کرے۔اُستاد اور ڈاکٹر میں صرف یہ فرق ہے کہ مؤخر الذکر (جس کا ذکر بعد میں ہے ) جسمانی امراض کا علاج کرتا ہے۔اور اوّل الذکر (جس کا ذکر پہلے ہے )