دینیات کی پہلی کتاب

by Other Authors

Page 17 of 134

دینیات کی پہلی کتاب — Page 17

تیسرا باب ا ہمارا خدا خُدا کے معنے ہیں خود آ۔یعنی ایسا وجو د جسے کسی نے پید انہیں کیا۔بلکہ ہمیشہ سے خود بخود چلا آتا ہے۔وہ واحد لاشریک یعنی اکیلا ہے۔اس کا کوئی ساجھی نہیں۔اس کا کوئی بیٹا نہیں اور نہ اس کی کوئی بیوی ہے۔کیونکہ اسے ان کی ضرورت نہیں۔وہ ساری دُنیا کا پیدا کرنے والا ہے وہ سب کا مالک ہے۔اور سب پر حاکم ہے۔اس پر کوئی حار کم نہیں۔وہ خود زندہ ہے۔سب کو زندگی بخشتا ہے۔وہی ساری دُنیا کی حفاظت کرتا ہے۔اُسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ۔اور وہ کبھی نہیں تھکتا۔اُس کا ایسا جسم نہیں کہ ظاہری آنکھ اُسے دیکھ سکے۔بلکہ دل کی آنکھ سے اُسے دیکھا جاسکتا ہے۔وہ اپنے پیاروں پر ظاہر ہوتا ہے۔وہ کسی ایک جگہ نہیں۔بلکہ ہر جگہ موجود ہے۔زمین اور آسمان سب اُسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔کوئی چیز یا کوئی ذرہ بھی اُس کی بادشاہت سے باہر نہیں جاسکتا۔اُسی نے ہمارے لئے ہماری پیدائش سے بہت پہلے سُورج۔چاند۔ستارے زمین۔ہوا اور دریا پید اکئے۔تاکہ ہم ان چیزوں سے فائدہ اُٹھا ئیں۔اور آرام سے زندگی گزاریں۔وہ بولتا بھی ہے۔سُننا بھی ہے۔مگر اُس کا بولنا اور اُس کا سنا اور دیکھنا انسان کے