دینیات کی پہلی کتاب — Page 61
رمضان کره جنوری ۶۳۰ء فتح مکه قریش نے عہد شکنی کی اور اہلِ اسلام کے حلیف مخزاعہ کے خلاف اپنے حلیف بنو بکر کی مدد کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ نے خزاعہ کے نقصان کا معاوضہ طلب کیا۔قریش نے انکار کیا اور کہا معاہدہ ختم۔آخر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ہزار صحابہ کو لے کر مکہ پر چڑھائی کی۔اور اس خیال سے کہ ملکہ میں خون خرابہ نہ ہو چپکے چپکے منزلوں پر منزلیں مارتے ہوئے مکہ جا پہنچے۔آپ کی اس غیر متوقع آمد پر مکہ والے ہکا بکا رہ گئے۔دربار عام ہوا۔کفار کے سامنے اُن کے سابقہ مظالم بیان کئے گئے۔اور اُن کی درخواست معافی پر معافی کا اعلان کر دیا گیا۔اور حضور نے فرمایا:۔اِذْهَبُوا أَنْتُمُ الطَّلَقَاءُ۔لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ۔جاؤ تم آزاد ہو آج کے دن تمہیں کوئی ملامت نہیں ہوگی اللہ اکبر! ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے کیسے اعلیٰ اخلاق تھے۔جولوگ اس قدرخون کے پیاسے تھے کہ ہر وقت نقصان پہنچانے اور ایذا دینے میں لگے رہتے تھے۔جب قابو میں آئے تو انہیں یکدم معاف فرما دیا۔اس موقعہ پر کعبہ اللہ کو جوں سے پاک کیا گیا اور ایک دن میں ۳۶۰ بت توڑ دئے گئے۔اور اس طرح خدا کی ظاہری بادشاہت بھی آپ کے ذریعہ قائم ہوئی۔