دینیات کی پہلی کتاب — Page 10
ہے کہ جس شخص پر اس کا سایہ پڑ جائے وہ صاحب اقبال بن جاتا ہے۔(۱۷) فسانہ۔قصہ۔کہانی۔افسانہ کا مخفف ہے۔قصہ۔کہانی بیان کرنے والے کو (۱۸) آشیانہ۔پرندے کے گھونسلے کو کہتے ہیں۔اب اس کا استعمال ٹھکانا اور جگہ افسانہ گو کہتے ہیں۔کے معنوں میں ہے۔(۱۹) یگانہ۔بے مثل۔یعنی وہ دین جو خُدا دکھاتا ہے وہ دین اسلام ہے۔(۲۰) چہرہ نما۔چہرہ دکھانے والا۔(۲۱)مد عا۔مقصد۔جو بات چاہی گئی ہو۔خُلاصه مضمون نظم اس تکلم میں مذہب اسلام کی بہت سی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو یہ ہیں:۔(۱) مذہب اسلام سیدھی راہ دکھاتا ہے۔(۲) باقی تمام دین مُردہ ہو چکے ہیں۔اب آسمان کے نیچے اگر کوئی زندہ مذہب ہے تو صرف اسلام ہے۔(۳) اللہ تعالی کی ذات جو پوشیدہ ہے۔اس کو کوئی نہیں دیکھ سکتا۔مگر اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے والا خدا تعالیٰ کو دلی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے۔(۴) اس دین کو سچا ماننے اور اس کی تعلیم پر عمل کرنے سے آسمانی بادشاہت ملتی ہے۔یعنی انسان خُدا کا پیارا بن جاتا ہے آسمان سے اُسے مدد ملتی ہے۔(۵) باقی جس قدر دین ہیں اُن کی تعلیم بگڑ چکی ہے۔خُدا کی توحید کا پتہ نہیں