دینیات کی پہلی کتاب — Page 115
(۴۵) وقار ۱۱۵۰ وقار کے معنے ثابت رہنا۔پر عظمت ہونا۔جس میں یہ صفت ہوا سے ذوالو قار یا صاحب وقار کہتے ہیں۔ہر کام میں انسان وقار کو اختیار کرسکتا ہے۔اُردو میں سنجیدہ مزاج ہونا اس کا مفہوم ہے۔(۴۶) تو شکل رکسی پر بھروسہ کرتے ہوئے اُس کے سُپر داپنا کام کرنا۔پورے طور پر دوسرے پر بھروسہ کرنا۔جس میں یہ صفت ہوا سے منور کل کہتے ہیں۔ایک دفعہ ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کیا خدا پر توکل کر کے میں اُونٹ کو چھوڑ کر نماز میں شریک ہو جاؤں۔یا اُس کے گھٹنے باندھ کر نماز پڑھوں؟ آپ نے فرمایا تو کل یہ ہے کہ پہلے اونٹ کا گھٹنا باند ھے اور پھر خدا پر بھروسہ کرے۔پس تو گل کے معنے یہ ہرگز نہیں کہ انسان خود تولا پروائی اور سستی کرے اور سمجھ لے کہ میں بڑا متوکل ہوں۔سوالات:- (۱) اخلاق اور ادب کی تعریف کرو۔(۲) تمہارا کونسا شعار ہے؟ اور اس کے کیا معنے ہیں؟