دینیات کی پہلی کتاب

by Other Authors

Page 114 of 134

دینیات کی پہلی کتاب — Page 114

۱۱۴ دوسرے کی ضرورت کو مقدم کرنا۔قرآن مجید میں انصار کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے کہ يُؤْثِرُوْنَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ۔وہ اپنے نفسوں پر دُوسرے مُہاجر بھائیوں کی ضروریات کو مقدم کرتے ہیں۔خواہ انہیں خود بھی سخت ضرورت یا ٹوک کیوں نہ ہو۔جس میں یہ صفت ہوا سے ایثار پیشہ یا مو خر کہتے ہیں۔(۴۳) قربانی قرب سے ہے۔ایسے کام جو خدا کے قرب کا باعث ہوں۔اپنی ہر چیز کو خدا کی راہ میں دینا۔اپنی عزت، مال اور جان کو کسی کے حکم یا اپنی بھلائی یا دوسرے کی خیر خواہی کی بناء پر دے دینا۔جس قوم میں قربانی کی روح ہو وہی کامیاب ہوتی ہے۔جس میں یہ صفت ہو اُسے قُربانی کرنے والا ، قربان ہونے والا کہتے ہیں۔ایثار اور قربانی میں فرق یہ ہے کہ ایثار تو مقابلے کی چیز ہے۔یعنی دوسرے کو بھی ضرورت ہے۔اور اس کو بھی ضرورت ہے مگر دوسرے کی ضرورت کو مقدم کر کے اپنی ضرورت کو پیچھے ڈال دینا۔مگر قر بانی عام ہے۔خواہ دوسرے کو اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔صرف اس کے حکم پر اپنے آپ کو قربان کر دینا۔مثلاً اللہ تعالیٰ کے لئے ہم کہ دیتے ہیں کہ فلاں نے قربانی کی۔لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ اُس نے خُدا کی خاطر ایثار کیا۔(۴۴) نشاط نشاط کے معنے ہیں خوش خوش رہنا۔دل کی خوشی سے کام سرانجام دینا۔قرآن مجید میں بھی اس کا ذکر ہے۔جیسے فرمایا۔وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا۔اور قسم ہے ان جماعتوں کی جو بڑی خوشی اور فرحت سے کام سرانجام دیتی ہیں۔جس میں یہ صفت ہوا سے ناشط یا نشیط کہتے ہیں۔