دینیات کی پہلی کتاب — Page 98
۱۹۸۰ ہو۔یا لڑنے جھگڑنے اور چوری اور چغلی کی عادت ہو تو ایسے لڑکوں سے ہمیشہ بچنا چاہئیے اور اُن کے اُن افعال کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنا چاہئیے۔کبھی اُن کی حمایت نہیں کرنی چاہیئے۔اگر بدی سے نفرت پیدا ہو جائے تو یہ بات بھی انسان کو با اخلاق بنانے میں بڑی مفید ثابت ہوگی۔چوتھا ذریعہ وہ ہے جو حضرت لقمان علیہ السلام کے اس مقولہ سے ظاہر ہوتا ہے۔کسی نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے محمد و اخلاق و آداب کہاں سے سیکھے تو انہوں نے کہا از بے ادباں۔یعنی بے ادب اور بے وقوفوں سے پو چھا گیا کس طرح؟ تو آپ نے فرمایا۔میں نے جب اُن کو بُرے کام کرتے دیکھا تو اُن سے میں نے پر ہیز کی۔یعنی دوسروں کی حالت سے سبق حاصل کرنا بھی انسان کو با اخلاق بنانے کا بڑا بھاری ذریعہ ہے۔