دینیات کی پہلی کتاب — Page 34
۳۴ فرمایا:۔”دیکھو ! میں تمہاری طرف وہ بات لے کر آیا ہوں کہ اس سے بڑھ کر ادقی بات کوئی شخص اپنے قبیلہ کی طرف نہیں لایا۔اس کام میں میرا گون مددگار ہوگا ؟“ آپ کی اس بات پر ساری مجلس میں سناٹا چھا گیا۔سب خاموش بیٹھے رہے۔تیرہ سالہ بچے کی ایمانی جرات یک لخت ایک طرف سے ایک ۳ سالہ دبلا پتلا لڑکا جس کی آنکھوں سے پانی بہ رہا تھا پوری جُرات سے بولا :۔گو میں کمزور ہوں اور سب سے چھوٹا ہوں مگر میں آپ کا ساتھ دوں گا۔حاضرین نے جب یہ نظارہ دیکھا تو بجائے شرمندہ ہونے کے کھل کھلا کر ہنس پڑے۔اور اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کمزور حالت کا مذاق اُڑاتے ہوئے اُٹھ کر چلے گئے۔بچو ! جانتے ہو یہ آواز اسلام کے کس ہو نہار فرزند کی تھی ؟ یہ آواز حضرت علی ہی تھی۔گو یہ آواز ایک بچے کی آواز تھی مگر انہوں نے اسلام کی بہت بڑی خدمات سرانجام دے کر اسے پورا کر دکھایا۔ان خدمات کا ذکر انشاء اللہ تعالیٰ تمہیں حضرت علیؓ کے بیان میں بتایا جائے گا۔