دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 90
90 خدمت میں ان کی قیمت پیش کی اور پھر اپنے دستور کے مطابق اُن کی توجہ اس نقطہ کی طرف دلائی کہ آپ جانتے ہوں گے کہ ملکی تقسیم کے وقت پنجاب کے سکھ اٹھ کھڑے ہوئے۔پہلے کانگرس کی سر پرستی میں اعلان کیا کہ ہم پنجاب میں خالصتان بنائیں گے۔کہ دیکھتے ہی دیکھتے مشرقی پنجاب کا علاقہ (سوائے قادیان کے ) مسلمانوں سے خالی ہو گیا۔وگر نہ صوبہ پنجاب بھی مسلم اکثریت کا صوبہ تھا۔اس لیے پاکستان کی حدود پانی پت تک ہونی چاہیے تھی۔ناظم ادارہ نے جو کٹر دیوبندی تھے میرے اس نظریہ کی پر زور تائید کی جس پر میں نے عرض کیا کہ آپ حضرات برٹش انڈیا اور پاکستان دونوں میں یہ ”جہاد“ کر رہے ہیں کہ کسی طرح کلمہ گوؤں کو ملت اسلامیہ سے خارج کرنے کا معرکہ سر کیا جائے۔لیکن بانی جماعت احمدیہ نے ۱۸۹۵ء میں ”ست بچن“ شائع کر کے یہ انکشاف کیا کہ سکھ مذہب کے بانی حضرت بابا نانک جس پر اُن کا چولہ اور پوتھی اور گرنتھ صاحب کے شبد مجسم گواہ ہیں۔اس لیے مسلمان علماء کو چاہئے کہ ان کی قوم کو جلد سے جلد داخل اسلام کر لیں۔اگر ہمیں کا فرقرار دینے والے ” بزرگ علماء اس تحریک میں باقی سلسلہ کا ساتھ دیتے تو ۱۹۴۷ ء تک سکھوں کی اکثریت مسلمان ہو چکی ہوتی۔نہ تقسیم پنجاب کا شاخسانہ کھڑا ہوتا اور نہ چین کی طرح مظلوم۔سے ذبح ہوتے اور نہ۔اس صورت میں پاکستان کی وسعتوں کا نقشہ ہی بالکل اور ہوتا اور آج ہم دنیا بھر کی ترقی یافتہ اقوام خصوصاً چین سے بہت آگے ہوتے جسے ہم سے دو ایک سال بعد آزادی نصیب ہوئی۔تاریخ کے اس پوشیدہ گوشہ کی بے نقابی نے ”مولانا کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔خصوصا اس وقت جبکہ میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کے مشہور ادارہ نے حضرت بابا نانک کے بارہ میں بھی ریسرچ کر کے کوئی جامع کتاب سپر واشاعت فرمائی ہے۔میرے اس سوال کا جواب انہوں نے افسوس بھرے الفاظ میں مکمل نفی میں دیا۔اس مرحلہ پر میں نے اپنی ایک احمدی دانشور منشی امیر محمد خاں صاحب مینیجر بک ڈپو قادیان کی مشہور تالیف گر نتھوں میں نور اسلام‘ دکھلائی۔( جو میں اپنے بیگ میں انہی کو نذر کرنے کے لیے ربوہ سے لایا تھا) یہ کتاب اکتو بر ۱۹۲۴ء میں پہلی بار قادیان سے چھپی۔اب پاکستان میں بھی چھپ چکی ہے اور کئی معز ز سکھوں کو دی جا چکی ہے۔