دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 87
87 ایسا معلوم ہوتا ہے جناب الہی کی طرف سے چودہ سو سال قبل آنحضرت ﷺ کو مدینہ میں ہم مظلوموں کا نظارہ دکھلایا گیا چنانچہ حضور نے پیشگوئی فرمائی: سيكون بعدى ناس من امتى يسد الله بهم الثخور يوخذ منهم الحقوق ولا يعطون حقوقهم اولئك منى وانا منهم (كنز العمال جلد ۱۲ صفحه ۱۸۷، مطبوعہ بیروت وشام ۱۹۸۹ء) میرے بعد میری امت میں ایسے مردان خدا ہوں گے جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اسلام کی سرحدوں کو مضبوط کرے گا۔(یعنی وہ مسلمانوں کو کافر بنانے کی بجائے کافروں کو مسلمان بنا ئیں گے۔ناقل ) ان کی نشانی یہ ہوگی کہ وہ تو معاشرہ اور ملکی دستور کے سارے حقوق ادا کریں گے مگران کے بنیادی حقوق تک سلب کر لیے جائیں گے۔فرمایا (اُس زمانہ کی حکومت اور علماء خواہ کچھ فیصلہ کریں ) یہ میرے ہیں اور میں اُن کا ہوں۔85- ایک صاحب نے اپنا یہ نقطہ خیال سامعین کے سامنے فرمایا کہ اگر مہدی موعود کا چاند سورج گرہن بھی قانون قدرت کے عام قواعد کے مطابق ہوگا تو اس میں معجزہ کی کون سی بات ہے۔میرا جواب یہ تھا کہ سب حضرات جانتے ہیں کہ آندھیاں ، طوفان اور سمندر کا مدوجزر قانون قدرت کے مطابق ایک معمول کی بات ہے مگر وہ آندھی جو آنحضرت ﷺ کے سنگریزوں سے چلی وہ معجزہ تھا، جو طوفان نوح کے مخالفین کے لیے اٹھا معجزہ تھا اور دریائے نیل کا مدوجزر جس سے فرعون کا لشکر غرق ہوا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے ساتھیوں سمیت سلامت باہر آگئے معجزہ تھا۔اسی طرح اگر چہ قانون قدرت کے مطابق آج تک سینکڑوں بلکہ ہزاروں گرہن لگ چکے ہیں مگر یہ معجزہ پہلی بار چشم فلک نے دیکھا کہ ادھر ایک شخص نے خدا سے علم پا کر اپنے مہدی ہونے کا اعلان کیا، ادھر دو تین سال کے اندر اندر چاند سورج گرہن نے اس کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔آپ مکمل تاریخ اسلام پڑھ جائے یہ معجزہ کسی اور مدعی مہدویت کے وقت ظاہر نہیں ہوا۔یہ تصور کر کے اس آفاقی نشان کی عظمت بے انداز بڑھ جاتی ہے کہ جس طرح دنیا بھر کے سائنس دان سنگریزوں سے فضا میں آندھی نہیں لا سکتے اسی طرح یورپ، امریکہ، چین اور برصغیر غرضیکہ سب دنیا کے ہیئت دان (ASTRONOMIST)