دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 53 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 53

53 ابھی اعلیٰ حضرت نے اپنے جلالی خطاب کا آغاز ہی فرمایا تھا کہ ایمرسن کالج کا ایک تیز طرار سٹوڈنٹ کھڑا ہو گیا اور بڑی جرات اور پُر زور لہجہ کے ساتھ سوال کیا کہ یزید کی حکومت کے بارہ میں آپ کیا رائے رکھتے ہیں۔اس سوال پر وہ نہایت درجہ سراسیمہ اور مضطرب ہو گئے اور یہ گوہر فشانی کی کہ استغفر اللہ تم کس ملعون کی بات کر رہے ہو۔یزید کی حکومت ہرگز ہرگز اسلامی حکومت نہیں تھی۔پھر کیا تھی ؟ کالج کے نوجوان طالب علم نے اس پر زبر دست جرح کرتے ہوئے پوچھا۔فرمانے لگے وہ مسلمانوں کی حکومت تھی نہ کہ اسلامی حکومت اب نو جو ان کالجیٹ نے پورے زور سے یہ سوال اٹھایا کہ یزید آنحضرت صلی اللہ کے ایک جلیل القدر صحابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا تھا۔اس کی سلطنت کی حدود ایران و شام سے لے کر بشمول شرق اوسط کے عرب ممالک کے جنوبی افریقہ تک ممتد تھیں۔اس کے عہد میں نظام زکوۃ پوری شان سے رائج ہو چکا تھا۔بیت المال بھی تھا اور اسلامی سکے بھی رائج تھے اور اسلامی تعزیرات کا نفاذ بھی ہوا تھا۔اگر یزید کی سلطنت اسلامی نہیں تھی تو ضیاء کی حکومت کیونکر اسلامی تسلیم کی جاسکتی ہے۔علامہ بتائیں کہ اسلامی حکومت اور مسلمانوں کی حکومت میں کیا فرق ہے؟ اس سوال پر حضرت بالکل بے بس ہو گئے تو مجھے مخاطب کر کے درخواست کی کہ مولانا آپ بھی تو مسلمان ہیں۔کچھ آپ بھی راہنمائی فرمائیں۔میں نے خدا کی دی ہوئی توفیق سے جواب دیا کہ میری تحقیق کے مطابق اسلامی حکومت نبی اور اس کے بعد خلفا کی تاثیرات قدسیہ سے قائم ہو سکتی ہے۔مگر مسلمانوں کی حکومت کا اطلاق ہر اُس مملکت پر ہوسکتا ہے جس کی اکثر آبادی کلمہ گو مسلمانوں پر مشتمل ہو خواہ اُن کے اعمال و عقائد کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے منافی ہی کیوں نہ ہوں۔یہ بتا کر میں نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ دوستوں کی رو سے نبوت ہمیشہ کے لیے ختم ہوچکی ہے۔جو نبی کا نام لے، اس کی زبان آپ گدی سے کھینچ لینا چاہتے ہیں۔اور ظاہر ہے کہ خلافت کا ظہور نبی کے بعد ہی ہوتا ہے اور یہ کسے معلوم نہیں کہ آج روئے زمین میں صرف جماعت احمد یہ میں نظام خلافت قائم ہے۔لہذا جب تک آپ اور ضیاء صاحب، مودودی صاحب کے مرید، خلیفہ وقت کی بیعت نہیں کرتے ، انہیں اسلامی نظام اسلامی حکومت اور اسلامی دستور“ جیسی اصطلاحات کے استعمال کا قطعاً کوئی حق نہیں اور ہر گز نہیں !! اس بات پر ان کی آنکھیں آنسوؤں پر