دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 28
28 یہ عاجز دفتری کام میں مصروف تھا کہ یکا یک حضرت مولانا کی السلام علیکم کی آواز سنائی دی اور آپ ایک باریش بزرگ کے ساتھ کمرہ شعبہ تاریخ میں تشریف لائے اور فرمایا میں انہیں تم سے ملانے کے لیے آیا ہوں۔میرے معزز مہمان کے پاس وقت بہت تھوڑا ہے۔کوئی ایک مختصری بات سنا دیجیے۔میں نے ان بزرگ پر نگاہ ڈالی تو حق تعالیٰ کی طرف سے میرے دل میں یہ ڈالا گیا کہ یہ سیال شریف والوں کے مرید ہیں مگر ہیں بہت شریف مزاج۔یہ ذہن میں آتے ہی خاکسار نے عرض کیا خدا کے فضل و کرم سے آپ بھی آنحضرت ﷺ کو احمد یقین کرتے ہیں لہذا میری ادب کے ساتھ یہ درخواست ہے کہ اپنے تئیں ہمیشہ احمدی کہا کریں۔جھٹ بولے میں احمدی تو ہوں مرزائی ہرگز نہیں۔یہ سنتے ہی میں نے انیسویں صدی کے نامور چشتی بزرگ حضرت خواجہ شمس الدین سیال شریف کے حسب ذیل ارشادات و ملفوظات عالیہ اُن کے مطالعہ کے لیے سامنے رکھ دیئے۔ان میں لکھا تھا: آپ کے پوتے صاحب زادہ محمد امین صاحب آئے۔آپ نے پوچھا اے بیٹے کون سی سورت پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا سورت نور۔آپ نے تبسم فرماتے ہوئے یہ شعر سة صورت مرزے یار دی ساری سورت نور والشمس والضحی پڑھیا غفور بندہ نے عرض کیا مرزا سے کیا مراد ہے؟ فرمایا۔رسول خدا اور تینوں مذکورہ سورتیں آپ کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔پھر فرمایا۔عاشقوں کا دستور ہے کہ وہ اپنے معشوق کو مرز ایا را نجھا کہہ کر یاد کرتے ہیں۔“ ( مرءة العاشقین صفحه ۲۷۲ مرتبہ سید محمد سعید اسلامک بک فاؤنڈیشن۔ناشر المعارف گنج بخش روڈ لاہور ۱۹۷۳ ء ) وہ بزرگ یہ عبارت پڑھتے ہی پورے جوش سے فرمانے لگے۔آج سے میں احمدی بھی ہوں اور مرزائی بھی اور ساتھ ہی بتایا کہ میرا مسلک چشتی ہے اور میں سیال شریف سے تعلق ارادت رکھتا ہوں۔