دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 112 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 112

112 خاکسار نے انٹرویو کے دوران حضرت مصلح موعود کا ملکی آزادی سے متعلق پالیسی کی طرف محض اشارہ کیا تھا۔اب جبکہ میں یہ روداد لکھ رہا ہوں حضور کے ایک اہم بیان کے الفاظ ہدیہ قارئین کرتا ہوں۔۲ نومبر ۱۹۴۵ء کی مجلس عرفان کے دوران فرمایا ”ہمارا کانگرس سے اختلاف آزادی کے حصول میں نہ تھا نہ ہے بلکہ ناجائز ذرائع استعمال کرنے میں تھا اور ہے۔“ (الفضل ۳ نومبر ۱۹۴۵ صفحہ۲) گفتگو کا آخری محور مسئلہ امنِ عالم تھا جو کئی سال سے تمام ممالک عالم کے لیے تشویش و اضطراب کا موجب بن چکا ہے۔خاکسار نے اس بارے میں جو کچھ عرض کیا اس کا مشخص یہ تھا کہ آج پوری دنیا تباہی کے کنارے تک آن پہنچی ہے۔ایسے نازک ترین وقت میں عالمی امن ، شانتی اور پریم کا قیام تین اصولوں پر عمل پیرا ہوئے بغیر ہرگز ممکن نہیں۔پہلا اصول یہ ہے کہ دنیا کی اکثریت ایسے لوگوں سے بھر جائے جو احترام قانون کو اپنا مذہبی فریضہ یقین کرتے ہوں۔نہیں۔“ دوسرا اصول یہ ہے کہ ان لوگوں کا ابدی ماٹو ہوا محبت سب کے لیے نفرت کسی سے تیسرا اصول یہ ہے کہ احترام قانون کو مذہب کا جز واعظم سمجھنے والی ان اقوام و افراد کا ایک واجب الاطاعت امام اور مذہبی لیڈر ہو جو آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ کی روشنی میں ہمیشہ اپنے معتقدین کی ہر مرحلہ پر کڑی نظر رکھے ہوئے رہنمائی کرتا رہے۔قرآن (سورہ یوسف) سے واضح ہے کہ اگر فرعون جیسا ظالم و سفاک بادشاہ بھی حکمران ہو اور یوسف جیسا اولوالعزم نبی ( یعنی ریشی یا اوتار بھی) اُس کی رعایا ہو تو اسے بھی قانون کا احترام کرنا ہوگا۔دوران گفتگو میں نے آنحضرت نے کی مکی زندگی کے اس تاریخی واقعہ کی طرف اشارہ کیا کہ مسلہ نبوی میں حضرت ابوطالب اور حضرت خدیجہ الکبری کی وفات کے بعد آپ کے مخالفین نے آپ کو نہایت بے با کی اور بے رحمی سے جور و جفا کا نشانہ بنانا شروع کر دیا جس پر آپ محض تبلیغ اسلام کے لیے مکہ چھوڑ کر شہر طائف تشریف لے گئے۔طائف میں عبدیالیل، مسعود اور حبیب تین رئیس اعظم تھے۔سب سے پہلے حضور انہی کے پاس خدا کا پیغام دینے کے لیے پہنچے مگر ان بدقماشوں نے آپ کی دعوت پر کھلا مذاق اڑایا۔ایک نے یہ گستاخانہ