دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 111 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 111

111 نے قادیان سے تقسیم ہند سے قبل ” تحفہ ہندو یورپ ایک محققانہ تالیف شائع کی جس میں ثابت کیا کہ برہما جی در اصل ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔اور آپ کے صحیفہ کا نام و داد تھا جس کے گیت قدیم آریہ قوم میں دید نام سے رائج ہوئے۔یہ معرکہ آرا کتاب وزیر ہند امرتسر پریس میں چھپی اور دسمبر ۱۹۲۸ء میں قادیان دارالامان سے شائع ہوئی۔سلسلہ گفتگو آگے بڑھا تو میں نے بتایا کہ ہم سری کرشن کو خدا کا اوتار اور ریشی مانتے ہیں اور اُن کی طرف بعض ہتک آمیز روایات کو ہرگز تسلیم نہیں کرتے۔ہمارے نز دیک گوپیوں سے مراد ان کے معتقد ومرید ہیں اور قدیم تصاویر میں مکھن چرانے کا واقعہ محض استعارہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو ملک کے اعلیٰ دماغوں تک اپنا پیغام پہنچانے اور انہیں اپنا گرویدہ اور فریفتہ کرنے میں کامیابی ہوئی۔CREAM کا انگریز کی محاورہ بھی اس کی عکاسی کرتا ہے۔اسی طرح ہندو مہا پریشوں نے جو آپ کو بانسری بجاتے ہوئے دکھایا ہے وہ ایک شاندار حقیقت کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ کہ جس طرح بانسری کی آواز دراصل اسے بجانے والے کی آواز ہوتی ہے اسی طرح بھگوان سری کرشن جی مہاراج کا اپدیش دراصل پر ماتما کا اپدیلیش تھا۔زبان اُن کی تھی مگر بلا والیشور کا تھا۔ایک موقعہ پر میں نے بحیثیت مؤرخ یہ بھی واضح کیا کہ ہماری جماعت کے دوسرے امام تمصل حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اصلح الموعود آزادی کے سب سے بڑے علمبر دار تھے۔اُن کی نگاہ صرف ہندوستان تک محدود نہ تھی بلکہ ساری دنیا پر تھی اور آپ ہر ملک، ہر قوم اور ہر انسان کو شیطان کی زنجیروں سے آزاد دیکھنا چاہتے تھے۔آپ نے ہمیشہ آزادی ہند کے حق میں آواز بلند کی۔مگر نہایت سختی، قانون شکنی اور بغاوت کے خلاف احتجاج کیا اور ہمیشہ اہل ملک کو حصول آزادی کے لیے احترام قانون اور پُرامن ذرائع استعمال کرنے کی تاکید فرمائی اور خاص طور پر ایک خطبہ میں یہ کھلا اعتباہ کیا کہ انگریز سمندر پار سے آئے ہیں۔جنگ نے اُن کی معاشیات کو تہ و بالا کر دیا ہے۔آخر انہیں جلد یا بدیر جانا ہی پڑے گا لیکن اگر ہم نے ان کے خلاف ناجائز اور امن شکن ذرائع استعمال کر کے کامیابی حاصل کر لی تو ملکی آزادی کے بعد عوام ضرور یہی جارحانہ ہتھیار اُن کے خلاف استعمال کریں گے۔جناب چیف ایڈیٹر صاحب اور اُن کے معزز رفقاء نے اس بات کی سو فیصدی تائید کی کہ واقعی اب پورے دیش میں ایسا ہی ہو رہا ہے۔