دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 49 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 49

49 بصیرت افروز حدیث کا یہ ہوا کہ درود کی کثرت اور شب و روز اس میں انہماک مسیح موعود کا طرہ امتیاز ہو گا اور وہ درود شریف کو حرز جان بنانے میں پوری ملت میں اول نمبر پر ہوگا۔اللہ جلشانہ نے اپنے پیارے مہدی کو عالم کشف میں دو فرشتے دکھلائے جو کاندھوں پر نور کی مشکیں اٹھائے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمد کی طرف بھیجے تھے۔انہیں اللہ عليه وسلم (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحه 502 حاشیہ در حاشیہ نمبر 3۔اشاعت 1884ء) پیش کردہ سوال میں چونکہ ضمنا سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لاہور میں وصال کے بارے میں نا پاک پراپیگنڈا کی طرف اشارہ تھا اس لئے مجھے بھی یہ بتانا ضروری تھا کہ حضرت اقدس کے وصال پر مسلم و غیر مسلم پریس نے بالا تفاق آپ کے اسلامی کارناموں کو زبر دست خراج تحسین ادا کیا خصوصاً امام الہند “ابوالکلام آزاد نے اخبار وکیل امرتسر میں ادار یہ لکھا کہ آپ اسلام کے فتح نصیب جرنیل تھے جنہوں نے صلیب پرستوں کی دھجیاں فضائے بسیط میں بکھیر ڈالیں۔ازاں بعد میں نے سامعین کو بتایا کہ اس نوع کی افتراپردازی اور خبث باطن کا مظاہرہ بھی حضرت مسیح موعود کی حقانیت کا ایک دائمی نشان ہے۔وجہ یہ کہ سورہ فاتحہ میں یہ دعا سکھلائی گئی ہے کہ اے ہمارے رب ہم مغضوب نہ بن جائیں۔آنحضور کی تفسیر کے مطابق یہودی علماء مغضوب تھے جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی میں مسیح ناصری کا ظہور ہوا جسے انہوں نے کافر ومرتد کہا اور سولی کی لعنتی موت مارنے کی ناکام سازش کی اور آپ کی وفات کو ملعون قرار دیا۔میں پوچھتا ہوں اگر کسی مسیح موعود نے چودہویں صدی میں مبعوث نہیں ہونا تھا نہ اس کی تکفیر وارتداد پر علمائے زمانہ نے یہودیانہ خصلت کا اعادہ کرنا تھا اور نہ اس کی وفات پر انہی کی طرح اخلاق سوز افسانہ اختراع کرنا تھا تو یہ دعائے خاص کیوں عالم الغیب خدا نے نازل فرمائی اور پھر کیوں شہنشاہ نبوت ﷺ نے ہر نماز میں اس کا پڑھنا لازم قرار دیا۔آخر میں خاکسار نے اس حیرت انگیز انکشاف پر روشنی ڈالی کہ عہد حاضر کے چوٹی کے بعض مسلم محققین مثلا علامہ شبلی نعمانی مصنف ”سیرت النبی قدیم اور مستند تاریخی لٹریچر کی ریسرچ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ رسول الله الله فداہ روحی و جسمی ) کی مقدس روح یکم ربیع الاول 11 ہجری