دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 48 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 48

48 اب اگر اس حدیث کی مادی اور ظاہری تشریح کی جائے تو اس سے سرور کائنات ہے کی ایسی شرمناک ہتک لازم آتی ہے کہ رنگیلا رسول شردھانند اور رشدی جیسے گستاخان رسول اس کے سامنے بیچ ہو کر رہ جاتے ہیں۔اس اجمال کی تفصیل میں خاکسار نے واضح کیا کہ قدیم مورخ اسلام حضرت سہودی نے ’وفاء الوفا“ میں اور حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی کی تحقیق کے مطابق آنحضرت ﷺ کی قبر مبارک حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے درمیان نہیں ہے بلکہ حضرت ابوبکر حضور کے قدموں میں آسودہ خاک ہیں اور ان کے متوازی سید نا عمر کا مزار ہے۔چونکہ یہ ایک واضح حقیقت ہے اس لئے معترض صاحب نے سرے سے آنحضرت کی حدیث مبارک کے لفظ ” قبر کو کمال دریدہ دہنی سے روضہ یا مقبرہ میں تبدیل کر دیا ہے۔اب دیکھئے کہ وہ لوگ جو حدیث رسول کو ظاہری شکل اور مادی رنگ دیتے ہیں دنیائے اسلام کو کیا بتانا چاہتے ہیں۔ان کی تشریح کے مطابق مسیح ابن مریم کو چونکہ گنبد خضری ہی میں دفن ہونا ہے اس لئے اُن کی خاطر معاذ اللہ سب سے قبل گنبد خضری کی کسی دیوار کو مسمار کرنا ہو گا پھر حدیث مشکوۃ کے مطابق حضرت ابو بکر کی قبر کو اکھاڑ کر آنحضرت کی قبر مبارک کے دائیں اور حضرت عمر کو بائیں طرف سپر د خاک کیا جائے گا بعد ازاں حدیث کے ظاہری الفاظ کو پورا کرنے کے لئے خود شاہنشاہ دو عالم کی قبر مبارک کھول کر اس میں عیسی ابن مریم کی تدفین عمل میں لائی جائے گی۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔میں پوچھتا ہوں کہ کیا دنیا کا کوئی غیور مسلمان اپنے آقا کے روضہ مبارک کی ایسی شرمناک بے حرمتی گوارا کر سکتا ہے؟ ازاں بعد میں نے حدیث رسول کی تشریح کا ایک دوسرا رخ پیش کیا اور وہ یہ کہ ہمارے آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کا سرچشمہ اول قرآن پھر کشوف ورد یا ءصالحہ ہیں جو استعارات و مجازات کا مرقع ہیں اس لئے معتبرین اسلام نے ان کو کبھی ظاہر پر محمول کرنے کی جسارت نہیں کی۔(الا ماشاء اللہ) لہذا ہمیں اس حدیث کی تفسیر کے لئے قرآن کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔سورہ عبس کی آیت نمبر 22 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَہ پھر اس نے مارا اور قبر میں رکھا۔یہی وہ خدا کی قبر ہے جس کی طرف حدیث رسول میں اشارہ فرمایا گیا ہے اور علاوہ ازیں آنحضور نے یہ مزید تشریح کر کے گویا پوری حقیقت بے نقاب کر دی ہے کہ جو شخص سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجے گا ، وہ قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب ہوگا۔اب خلاصہ اس