دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 46
46 میں نے جناب حکیم صاحب سے استفسار کیا کہ جناب کس موضوع پر بحث فرما ئیں گے۔مسئلہ حیات و وفات مسیح پر انہوں نے کڑک کر جواب دیا۔میں نے بھی پورے جذبے اور جوش وخروش سے کہا کہ مجھے حیرت ہے کہ آپ جیسے بلند بانگ دعاوی کرنے والے ”عالم دین “ اور ” مناظر بے بدل کو اتنا بھی علم نہیں کہ یہ کوئی اختلافی مسئلہ ہی نہیں ہے۔چنانچہ میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو کبھی آسمان پر تشریف لے جانے کا اتفاق ہوا ہے۔مسکراتے ہوئے فرمانے لگے نہیں۔میں نے بھی کہا کہ میں بھی نہیں جا سکتا ( واضح ہو کہ یہ 1951 ء کی بات ہے جبکہ ابھی روس کے پہلے خلانور دیوری گیگارین نے پرواز نہیں کی تھی اور نہ امریکن خلا باز چاند کی سطح پر اتر سکے تھے۔یہ دونوں واقعات بالترتیب اپریل 1961 ء اور 20 جولائی 1969ء کے ہیں ) اب آگے سنئے۔اس ماحول میں عاجز نے تمام سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ آسمان پر جانے والے صرف ایک ہی وجود ہیں یعنی محمد رسول اللہ ہی ہے۔آپ شب معراج میں نفت افلاک سے صلى الله گذر کر عرش عظیم تک پہنچے اور تمام نبیوں کو نہ صرف شرف زیارت بخشا بلکہ ان کی امامت بھی کرائی۔میں نے احمدی بزرگوں سے دریافت کیا کہ کیا آنحضرت مہ کی اس غیبی شہادت پر آپ کامل ایمان رکھتے ہیں کہ سب نبی آسمانوں پر زندہ موجود ہیں۔سبھی نے بیک زبان اقرار کیا کہ ہمیں مکمل یقین ہے کہ آنحضور کی شہادت برحق ہے۔میں نے حاضرین سے کہا کہ جماعت احمد یہ تو ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کو آسمان پر زندہ یقین کرتی ہیں جس میں حضرت عیسی مسیح ناصری بھی شامل ہیں لہذا یہ ہرگز کوئی متنازعہ امر نہیں کہلا سکتا۔اصل اختلافی مبحث یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کی رُو سے جملہ انبیاء اپنا جسم خاکی زمین میں چھوڑ کر آسمان تک پہنچے ہیں مگر جناب حکیم صاحب اور ان کے ہمنواؤں کا ادعا یہ ہے کہ آسمانوں پر باقی نبیوں کی تو واقعی روحیں تھیں مگر حضرت مسیح کا بجسد عصری بھی تھا۔اب اس کا فیصلہ دربار مصطفیٰ سے ہی ہو سکتا ہے کیونکہ حضرت شد لو لاک ہی عینی شاہد ہیں اور آنحضور ہی آسمان پر تشریف لے گئے لہذا میں حکیم صاحب کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ کسی مسلک کی مطبوعہ احادیث میں کوئی ایک اصل حدیث ہمیں دکھا دیں جس میں خود حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ آسمان پر میں نے جملہ انبیاء کی صرف روحوں کی امامت کرائی ماسوا حضرت عیسی کے جن کا خا کی جسم بھی تھا۔سے بحبك خنجر اٹھے گانہ تلوار ان سے یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں