دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 99 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 99

99 زبان سے اس خلاف حقیقت تو جیبہ کی قطعا امید نہیں تھی کیونکہ یہ پرچہ جس میں آپ نے تحریک پاکستان پر شدید گولہ باری کی ہے مارچ ۱۹۴۶ء کا ہے جبکہ تین ماہ قبل آل انڈیا مسلم لیگ نے مرکزی انتخابات میں تمام مسلم نشستوں پر قبضہ کر لیا اور قائد اعظم کی ہدایت پر پورے ملک میں جشن فتح منایا گیا۔ازاں بعد مارچ ۱۹۴۶ء کے صوبائی انتخابات میں بھی مسلم لیگ نے دوسرے تمام نیشنلسٹ اور کانگرسی امیدواروں کو زبر دست شکست دی۔کیا آپ اس وقت ہم طالب علموں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ مرکزی اور صوبائی فتوحات کے زمانہ تک قائد اعظم اور دوسرے مسلم لیگی قائدین کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ ان کی تحریک پاکستان کی غرض و غایت کیا ہے؟ اور مسلمانان ہند بھی آنکھوں پر پٹی باندھے اندھا دھند مسلم لیگ کے حق میں ووٹ ڈال رہے تھے۔دوسرے لفظوں میں ۱۹۴۶، یعنی پاکستان کے نقشہ عالم پر ابھرنے سے ایک برس قبل بھی تحریک پاکستان محض ایک معمہ اور چیستان بنی ہوئی تھی ؟؟ میں یہاں تک ہی کہنے پایا تھا کہ مودودی صاحب جلال میں آگئے اور فرمایا اب ہمارے کھانے کا وقت ہے۔مجلس برخاست کی جاتی ہے لیکن میں نے ادب سے درخواست کی کہ آپ مجھے صرف ایک اور مختصر سوال پیش کرنے کی اجازت مرحمت فرما ئیں۔میں آپ کا قیمتی وقت ضائع نہیں کروں گا۔میری اس یقین دہانی پر انہوں نے کمال فراخدلی سے مجھے اجازت بخشی۔میں نے اُن کی کتاب تجدید و احیائے دین سے تیرھویں صدی کے مجد د حضرت سید احمد بریلوی کی اسلامی حکومت کی ناکامی کا یہ سبب اُن کے الفاظ میں بیان کیا کہ انہوں نے نام کے مسلمانوں کو حقیقی مسلمان سمجھ کر دھو کہ کھا یا لہذا تاریخ کا یہ سبق ہمیشہ یادرکھنا چاہیے کہ جس انقلاب کی جڑیں اخلاق و تمدن میں جمی ہوئی نہ ہوں نقش بر آب ہوتا ہے اور اگر عارضی طاقت سے قائم بھی ہو جائے تو ہمیشہ کے لیے پیوند خاک ہو جاتا ہے۔میری گزارش یہ ہے کہ حضرت سید احمد بریلوی مجدد تھے۔اُن کا لشکر پورے ہندوستان کے پارسا اور خدارسیدہ بزرگوں پر مشتمل تھا۔دوسری طرف صورت یہ ہے کہ آپ مجدد نہیں اور جیسا کہ آپ نے مسلمانان ہند کی سیاسی کشمکش میں تصریح فرمائی ہے کہ موجودہ مسلمان ہزار میں سے ۹۹۹ کافرانہ ٹائپ رکھتے ہیں۔اس لیے اگر جمہوری انتخاب ہوتا ہے تو اس کے نتیجہ میں اسلام نہیں لایا جا سکتا۔جب دودھ ہی کڑوا ہے تو بالائی کیونکر میٹھی ہوسکتی ہے۔اب بتائیے کہ اس صورت میں صوبائی اسمبلی کے لیے آپ اور آپ کی جماعت کا انتخابی دوڑ میں حصہ لینے کا کیا فائدہ ہوگا؟