دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 89 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 89

89 شریف النفس بزرگ تھے اور میں بھی اُن کا شاگرد تھا۔میں اُن کی خدمت میں ملاقات کے لیے حاضر ہوا اور سیر روحانی بھی بغرض مطالعہ دی۔اگلے ہی روز وہ کتاب ہاتھ میں تھامے ہوئے خاکسار کی قیام گاہ پر تشریف لائے اور مجھے یہ کتاب واپس کر دی۔میں نے عرض کیا کہ ماشاء اللہ آپ نے ایک رات کے اندر اس کا مطالعہ فرمالیا ہے جو میرے لیے عجوبہ سے کم نہیں۔فرمانے لگے نہیں ایسا نہیں۔بات یہ ہوئی کہ ابھی میں نے اس کے چند صفحات کی سرسری سی ورق گردانی کی تھی کہ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ کوئی غیبی طاقت یا کوئی مقناطیسی قوت مجھے احمدیت کی طرف کھینچ رہی ہے۔جس سے میں گھبرا اٹھا ہوں اور خود چل کر کتاب واپس دینے کے لیے آگیا ہوں۔تاہم اسے ایک نظر دیکھتے ہی اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ آج مرزا محمود احمد آپ کے امام سے بڑھ کر قرآن مجید کا کوئی عالم موجود نہیں۔یہ کہتے ہی بڑی تیز سے واپس چل دیئے۔88- ایک موقعہ پر برسبیل تذکرہ احراری لیڈروں کے علمی مقام کا ذکر چھڑ گیا۔میں نے کہا کہ اُن کی بصیرت کے کیا کہنے۔یہ لوگ واقعی ذہین و فریس ہیں اور سیاسی شعور اور بالغ نظری میں بہت کمال رکھتے ہیں۔اسی لیے تو انہوں نے اپنا نام دسمبر ۱۹۲۹ء سے احرار رکھا ہے جو کر کی جمع ہے جس کے لغات میں کئی معنی ہیں مثلاً آزاد ، سفید کبوتر اور سانپ کا بچہ۔دوسری طرف ہمیں مرزائی کہتے ہیں جس کے ایک لغوی معنی شہزادگی اور پارسائی کے ہیں۔89۔لاہور کے متعدد اشاعتی اداروں سے میرے ذاتی روابط و مراسم ہیں اور میرا ہمیشہ سے یہ طریق رہا ہے کہ ذاتی سفر بھی ہو تو کوئی ضروری کتاب یا لٹریچر پیغام حق کی خاطر ضر ور ساتھ رکھتا ہوں۔اسی طرح کتب فروشوں کو ان کی کتابوں کا ہدیہ پیش خدمت کرنے کے بعد کوئی کلمہ حق ضرور پہنچا دیتا ہوں کیونکہ میرے نزدیک فرض نمازوں کے تو پانچ اوقات مقرر ہیں مگر دعوت الی اللہ کے لیے کوئی وقت شارع علیہ السلام نے مخصوص نہیں فرمایا۔یہ نماز جنازہ کی طرح فرض کفایہ نہیں بلکہ ہر احمدی پر چندہ سے بڑھ کر واجب ہے۔اسی دائمی جذبہ کے ساتھ ایک دفعہ میں نے دیو بندیوں کے قدیم کتب خانہ ادارہ اسلامیات ( نیلا گنبد لاہور ) سے ہزاروں روپے کا جدید لٹریچر خریدا اور ناظم ادارہ کی