دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 79
79 رسول اللہ سے بھی افضل ہونے کے مدعی ہیں۔تم کس جال میں پھنس گئے ہو۔تم بچہ ہو اور ساتھ ہی انہوں نے بطور سند حضرت اقدس کا یہ مصرعہ بھی پڑھا: بہ ع تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے شیخ جی نے آگے بڑھایا ہم نے“ کے الفاظ اپنے دعوی کو موثر بنانے کے لیے پوری بلند آہنگی سے پڑھے اور پھر ڈرامائی انداز میں اپنا ایک قدم بھی آگے بڑھا دیا۔جناب دادا صاحب کو اس ایکٹنگ اور ناٹک سے یقین کامل ہو گیا کہ پیر روشن ضمیر اور مرشد نے اسے خوب پکڑا ہے۔میرے لیے مغالطہ آفرینی کا یہ پہلا تجربہ تھا اور میں دجل و فریب کا شرمناک نمونہ دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا کہ بغض و عداوت کی آگ نے ان لوگوں کو کہاں تک پہنچا دیا ہے۔بہر حال میں نے اُن سے درخواست کی کہ آپ ڈریشین خود ملاحظہ فرما ئیں۔حضرت اقدس کا پورا شعر یہ ہے "" ہم ہوئے خیر اہم تجھ سے ہی اے خیر رسل تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے آپ فرماتے ہیں یا رسول اللہ آپ تمام نبیوں کے سردار ہیں اسی لیے ہم خیر اہم بن گئے۔آپ نے نبیوں میں اپنا قدم بڑھایا اور ہم آپ کے طفیل تمام امتوں میں آگے بڑھ گئے۔خدا را بتائیے کہ یہ افضیلت ہے؟ یہ سن کر آدھے قلندر صاحب بالکل لاجواب اور ساکت و جامد ہو گئے۔بایں ہمہ ہمارے دادا صاحب نے مرتے دم تک ان کا دامن عقیدت چھوڑا نہ مخالفت احمدیت سے باز آئے۔اور بالآ خرکئی حسرتیں دل ہی میں لے کر اس جہانِ فانی سے چل بسے اور ہمیشہ کے لیے عبرت کا نشان بن گئے۔وجہ یہ کہ اُن کے چھ بیٹوں میں جو تین اُن کے ہم نوار ہے ان میں سے ایک عاقل والی مسجد کے امام تھے جنہوں نے ان کی زندگی میں مسجد میں ہی خود کشی کر لی۔ایک بیٹا ساری عمر معذور اور لا ولد رہا۔تیسرے کی یادگار غالبا صرف ایک بیٹا ہے۔اس کے مقابل آپ کے تینوں احمدی بیٹوں کو خدا نے دین ودنیا کی برکتوں سے معمور رکھا اور ان کی نسلیں نہ صرف برصغیر پاک و ہند بلکہ کینیڈا، جرمنی اور عرب میں بھی پھل پھول رہی ہیں اور خدا کے فضل و کرم سے عشق خلافت سے سرشار ہیں۔یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ محترم دادا جان بھی مرزا امام الدین صاحب ( قادیان ) کی طرح ظاہری طور پر